فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 434

فضائل القرآن — Page 362

فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 362 محبت ہر وقت کامل رہتا ہو اُن کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ صبح یا شام کا وقت تلاوت کے لئے مقرر کر لیں مگر جن کا جذبہ محبت ایسا کامل نہ ہو وہ اُس وقت تلاوت کیا کریں جب اُن کے دل میں محبت کے جذبات اُبھر رہے ہوں۔چاہے دوپہر کو اُبھریں یا کسی اور وقت۔سوم قرآن کریم کو اس یقین کے ساتھ پڑھا جائے کہ اس کے اندر غیر محمد ودخزانہ ہے۔جو شخص قرآن کریم کو اس نیت کے ساتھ پڑھتا ہے کہ جو کچھ مولوی مجھے اس کا مطلب بتائیں گے یا پہلی کتابوں میں لکھا ہوا ہے وہیں تک اس کے معارف ہیں اُس کے لئے یہ کتاب بند رہتی ہے مگر جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس میں خزانے موجود ہیں وہ اس کے معارف اور علوم کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔کوئی سال ڈیڑھ سال کی بات ہے کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ایک سوال پوچھنا ہے۔مجھے اس وقت جلدی تھی میں نے کہا کوئی مختصر سوال ہے یا تفصیل طلب؟ وہ کہنے لگا میں مرز اصاحب کی صداقت کا ثبوت چاہتا ہوں۔میں نے کہا مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت سارے قرآن سے ملتا ہے۔کہنے لگا کوئی آیت بتائیں۔میں نے کہا ممکن ہے میں جو آیت بتاؤں آپ کہیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں وہ مطلب ہے۔اس لئے آپ ہی قرآن کی کوئی آیت پڑھ دیں۔میں اس سے مرزا صاحب کی صداقت ثابت کر دونگا۔اُس نے جلدی سے یہ آیت پڑھ دی کہ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَاهُمْ بِمُؤْمِنِينَ سے میں نے مختصراً اس آیت کا مضمون بیان کر کے اُسے بتایا کہ اس آیت سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔چنانچہ میں نے کہا آپ بتائیں آج کل مسجدوں میں لوگ کتنے جاتے ہیں؟ کہنے لگا بہت کم۔میں نے کہا پھر جو نماز پڑھنے جاتے ہیں ان میں سے نماز کی حقیقت سے کتنے آگاہ ہوتے ہیں؟ کہنے لگا بہت ہی کم۔پھر میں نے کہا ان میں سے جو با قاعدہ پانچ وقت نمازیں پڑھتے ہیں ان کی تعداد کتنی ہوتی ہے؟ کہنے لگا ان کی تعداد تو اور بھی تھوڑی ہوتی ہے۔میں نے کہا خدا اس آیت میں یہ کہتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ وہ مومن نہیں ہوتے۔اب آپ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ آیت جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اتری آج بھی اپنے مضمون کی صداقت ظاہر کر رہی ہے۔پھر اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے