فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 434

فضائل القرآن — Page 358

فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 358 کتابوں میں خصوصا یہ مشکل پیش آتی ہے کہ لوگ کہہ دیتے ہیں یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں جو تشبیہ یا استعارہ استعمال ہوا ہے وہ حقیقت ہے، اس کے دوسرے معنی ہو ہی نہیں سکتے۔علمی مضامین کے سمجھنے میں عوام کی مشکلات اسی طرح الہامی کتابوں کے اعلیٰ علمی مضامین کا سمجھنا بھی عام لوگوں کے لئے بڑا مشکل ہوتا ہے جس کی کئی وجوہ ہیں۔اول الہامی کتابوں کی ترتیب عام کتابوں سے جُدا ہوتی ہے۔عام کتابوں میں تو یہ ہوتا ہے کہ مثلاً پہلے مسائل وضو بیان کئے جائیں گے پھر مسائل عبادت بیان کئے جائیں گے پھر ایک باب میں مسائل نکاح بیان کئے جائیں گے اسی طرح کسی باب میں طلاق اور ضلع کا اور کسی میں کسی اور چیز کا ذکر ہوگا اور جس جگہ مسائل بیان ہو نگے اکٹھے ہونگے مگر الہامی کتابوں میں یہ رنگ نہیں ہوتا اور اُن کی ترتیب بالکل اور قسم کی ہوتی ہے جو ڈ نیوی کتب کی ترتیب سے نرالی ہوتی ہے یہاں تک کہ جاہل لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اس میں ترتیب ہے ہی نہیں۔الہامی کتب کی نرالی ترتیب میں حکمتیں اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ الہامی کتابوں میں دنیا کی تمام کتابوں سے نرالی ترتیب کیوں رکھی جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں بھی کئی حکمتیں ہیں۔(الف) اس ترتیب سے سارے کلام سے دلچسپی پیدا کرانی مد نظر ہوتی ہے۔اگر الہامی کتاب کی ترتیب اُسی طرح ہو جس طرح مثلاً قدوری کی ترتیب ہے کہ وضو کے مسائل یہ ہیں، نکاح کے مسائل وہ تو عام لوگ اپنے اپنے مذاق کے مطابق انہی حصوں کو الگ کر کے ان پر عمل کرنا شروع کر دیتے اور باقی قرآن کو نہ پڑھتے مگر اب اللہ تعالیٰ نے سارے مسائل کو اس طرح پھیلا کر رکھ دیا ہے کہ جب تک انسان سارے قرآن کو نہ پڑھ لے مکمل علم اُسے حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔(ب) لوگوں کو غور و فکر کی عادت ڈالنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ ترتیب اختیار کی ہے۔اگر عام کتابوں کی طرح اس میں مسائل بیان کر دیئے جاتے تو لوگوں کا ذہن اس طرف منتقل نہ ہوتا