فضائل القرآن — Page 342
فصائل القرآن نمبر ۵ 342 مثلاً زید بکر کو پہچانتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بکر کی تصویر زید کے اندر ہے ورنہ وہ اُسے پہچان نہیں سکتا۔پس عرفان کے معنے ہیں اللہ اپنے بندے کے اندر داخل ہو گیا۔ایک ہند و تو کہتا ہے کہ بندہ خدا میں داخل ہو گیا مگر اس طرح تو انسان کی کوئی جس ہی باقی نہ رہی۔پھر اسے مزا کیا آیا۔مثلاً ایک گاجر آدمی نے کھالی تو گاجر کو کیا لطف آیا لیکن اسلام کہتا ہے کہ خدا بندہ کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور اس کی حسن قائم رکھتا ہے اور اسلام بتاتا ہے کہ یہ مقصد کسی خاص انسان کے لئے نہیں بلکہ ہر فرد بشر کو اس مقام تک پہنچایا جائے گا۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ ۲۴ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔تذلل کے لئے پیدا کیا ہے تا کہ وہ میرے نقش کو لے لیں اور میری صفات کو اپنے اندر داخل کر لیں مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں یہ بات یعنی خدا تعالیٰ کی لقا کا مرتبہ حاصل نہیں ہوتا۔ان کے لئے فرمایا۔ققَالَ عَذَابِ أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ، فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكوةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِأَیتِنَا يُؤْمِنُونَ یعنی میں اپنا عذاب جس کو چاہتا ہوں پہنچا تا ہوں مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ میں اُسے ہمیشہ عذاب میں رکھوں گا۔ورحمتی وَسِعَتْ كُلّ شَیخی میری رحمت ہر ایک چیز پر حاوی ہے اور اس کے لئے بھی میں نے رحمت پیدا کی ہے مگر مومنوں کے لئے تو اُسے فرض کر دیا گیا ہے۔وہ مومن جو تقویٰ اختیار کرتے اور زکوۃ دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔غرض بنی نوع انسان کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ خواہ کوئی ہو۔یہودی ہو ، نصرانی ہو، ہندو ہو یا مسلمان ہو جلد یا بدیر اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر کے اس کی صفات کو اپنے اندر پیدا کر لے اور یہ وہ مقصد ہے کہ جس میں دنیا کی کوئی قوم اسلام کی شریک نہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اُس کے جلال کا مظہر بنے اور اس غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔اسی طرح ابو جہل کو پیدا کیا۔فرق صرف یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو سیدھا رستہ اختیار کر کے اس مقصد کو پالیا اور ابو جہل کو مار پیٹ کر اس مقصد کی طرف لایا جائے گا۔بہر حال اس مقصد کے حاصل کرنے میں جو آگے ہوگا وہ آگے ہی رہے گا اور جو پیچھے۔پیچھے ہی رہے گا۔وہ