فضائل القرآن — Page 317
فصائل القرآن نمبر ۵ 317 کچھ ہوا۔اب غور کرو یہ کس نے کرایا ؟ اسی طرح ممکن تھا کہ ابو جہل حملہ نہ کرتا اگر اُس نے کیا تو عبد اللہ کو غصہ نہ دلاتا تا کہ وہ اس کی گردن چھوٹی نہ کاٹے مگر اس کے لئے اسباب پیدا ہوئے۔یہ اسباب کس نے پیدا کئے؟ ان سے صاف نظر آتا ہے کہ دو ہزار سال سے زمین و آسمان کی بادشاہت ایک ساتھ چل رہی تھی۔آسمان سے حکم ہو گیا کہ ابراہیم کی نسل کو قائم رکھنا۔تباہی و بربادی کی آندھیاں آتیں تو انہیں کہہ دیا جاتا کہ دیکھنا مکہ پر کوئی آنچ نہ آئے۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ اتنا عرصہ قبل بتا دینا اور پھر اس کا ہوبہو پورا ہونا۔یہ سب باتیں قانون طبعی کے ماتحت تھیں۔اللہ تعالیٰ ان سب باتوں کے نتیجہ میں فرماتا ہے۔وَلَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ۔اے خدا کے منکر و غور تو کرو کیا یہ قانون آپ ہی آپ چل رہا ہے؟ میں دو ہزار سال کی ہسٹری پیش کر کے بتاتا ہوں کہ خدا ہے اور یقینا ہے۔لِلهِ مُلْكُ السموتِ وَالْأَرْضِ سے خدا کا ثبوت ملتا ہے اور حضرت مسیح نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے متعلق فرمایا کہ اُس وقت خدا خود آجائے گا۔یعنی آپ کے وجود سے خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ملے گا اور ساتھ ہی انہوں نے اپنے پیرؤں سے یہ بھی کہا کہ دُعائیں مانگو کہ اے خدا جیسی تیری آسمان پر بادشاہت ہے ویسی ہی زمین پر بھی آئے۔یعنی تم ہمیشہ دُعا ئیں مانگتے رہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوں۔دُعائیں مانگتے رہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دنیا کو یہ معلوم ہو جائے کہ آسمان اور زمین کا خدا ایک ہی ہے۔اس میں نہ صرف دہریوں کا رڈ ہے بلکہ جینیوں اور آریوں کا بھی رڈ ہے۔چینی کہتے ہیں کہ روحیں ترقی کرتے کرتے آپ ہی اونچی ہو جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ غلط ہے۔ہم خود تغییرات کرتے کرتے کامل رُوح پیدا کرتے ہیں۔آریہ کہتے ہیں دنیا میں خدا کا تصرف نہیں۔مادہ اور روح آپ ہی آپ سب کچھ کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے دنیا کا سارا انتظام ہمارے احکام کے ماتحت چلتا ہے اور ہر قسم کے تغیرات ہم خود پیدا کرتے ہیں۔