فضائل القرآن — Page 316
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 316 قانون شریعت اور قانون طبعی کی باہم مطابقت کا حیرت انگیز سلسلہ اب دیکھو یہ نشان کتنا عظیم الشان ہے، کتنا لمبا سلسلہ چلتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شروع ہوتا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام تک جو دو ہزار سال کا زمانہ ہے تغیرات ہوتے رہتے ہیں۔پھر حضرت مسیح کے سلسلہ کے چھ سو سال کے عرصہ میں بھی تغیرات ہوتے ہیں اور آخر وہ انسان ظاہر ہوتا ہے جو ان کا مصداق تھا اگر صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعوی کرتے اور شریعت لے آتے تو لوگ کہتے یہ کلام آپ نے خود بنالیا ہے مگر یہاں تو قانون شریعت اور قانون طبعی صدیوں ہاتھ میں ہاتھ دے کر چل رہے ہیں اور ثابت ہو رہا ہے کہ ہمارا خدا آسمانوں کا ہی بادشاہ نہیں بلکہ زمین کا بھی بادشاہ ہے۔قانون شریعت کہتا ہے کہ مکہ میں ایک نبی آئے گا اور قانونِ طبعی اس کے لئے سامان مہیا کرتا ہے۔تباہی اور ہلاکت کی آندھیاں چلتی ہیں۔قوموں کی قو میں تباہ ہو جاتی ہیں۔و بائیں آتی ہیں اور قوموں کو ہلاک کر کے چلی جاتی ہیں۔زمانہ کی گردشیں آتی ہیں اور قوموں کا نام و نشان مٹا دیتی ہیں۔یہ سب کچھ ہوتا ہے۔مگر قریش ان تمام آفات سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ اُن کی تائید ہوتی ہے۔ابرہہ مکہ پر چڑھائی کرتا ہے اور کہتا ہے مکہ اور اہل مکہ کو میں تباہ و برباد کر دونگا مگر خود اس کا لشکر تباہ ہو جاتا ہے اور وہ ناکام و نامراد لوٹ جا تا اور راستہ میں ہی ہلاک ہو جاتا ہے کیونکہ قانون طبعی کہتا ہے کہ میں اس قوم کو نہیں مٹنے دونگا۔قوموں میں تغیرات آتے ہیں۔مرد نا مرد پیدا ہوتے ہیں اور اس طرح خاندانوں کے نام و نشان مٹ جاتے ہیں مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں یہ تغیر نہیں آتا۔اس لئے کہ آپ کی نسل بڑھے اور ترقی کرے۔عیسائی کہتے ہیں کہ قیصر و کسری کی تباہی کی خبر دینا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ان میں تباہی کے آثار پیدا ہو چکے تھے مگر ان کی تباہی کی خبر تو یسعیاہ اور حبقوق نے بھی دی تھی اور کئی ہزار سال پہلے دی تھی جبکہ قیصر و کسری کا کہیں نام ونشان بھی نہ تھا اور پھر قانونِ قدرت نے اُن کی تباہی کے سامان اُس وقت پیدا کئے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہو گئے۔اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظاہر ہوئے تو ہو سکتا تھا کہ مکہ سے نکالے نہ جاتے اگر نکالے گئے تھے تو آپ کی قوم آپ پر حملہ نہ کرتی اگر حملہ کرتی تو شکست نہ کھاتی مگر یہ سب