فضائل القرآن — Page 16
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔۔قرآن کریم کے مخاطب کون تھے؟ (۴۳) ایک یہ بھی سوال ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب کون لوگ تھے۔صرف اہل عرب یا ساری دنیا کے لوگ؟ اور پھر یہ بھی کہ شروع میں صرف اہل عرب مخاطب تھے اور بعد میں اور لوگ۔یا سب کے سب شروع سے ہی مخاطب تھے ؟ قرآن کریم کا ترجمہ لفظی ہونا چاہئے یا با محاورہ (۴۴) پھر یہ بھی ایک سوال ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ لفظی ہو یا با محاورہ؟ عام طور پر لوگ لفظی ترجمہ پسند کرتے ہیں۔مگر اس طرح عربی کی سمجھ آتی ہے۔مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔وجہ یہ کہ لفظ کے نیچے لفظ ہوتا ہے۔اس سے یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اوپر کے عربی لفظ کا ترجمہ یہ ہے لیکن سارے فقرے کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔کیونکہ دونوں زبانوں کے الفاظ کے استعمال میں فرق ہے۔لفظی ترجمہ کرنا ایسی ہی بات ہے جیسے اردو میں کہتے ہیں۔فلاں کی آنکھ بیٹھ گئی۔اس کا انگریزی میں ترجمہ کرنے والا اگر یہ ترجمہ کرے کہ HIS EYE HAD SAT" اور عربی میں یہ کرے کہ جلست عينه تو صاف ظاہر ہے کہ یہ لفظی ترجمہ اصل مفہوم کو ظاہر نہیں کرے گا۔کیونکہ آنکھ بیٹھنے کا جو مفہوم اردو میں ہے وہ دوسری زبانوں کے لفظی ترجمہ میں نہیں پایا جاتا۔ترجمہ کی غرض چونکہ مطلب سمجھانا ہے اس لئے ایسا ہونا چاہئے کہ مطلب سمجھ میں آ جائے ، چاہے محاورہ بدلنا ہی پڑے۔یہ سوالات ہیں جن پر مقدمہ قرآن میں بحث کی ضرورت ہے۔ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان امور پر بحث کروں۔قرآن کریم پر مستشرقین یورپ کا حملہ 16 اب میں جماعت کو یہ بتاتا ہوں کہ قرآن کریم کی خدمت ایک نہایت اہم خدمت ہے۔یور بین اقوام کا اسلام کے خلاف جس بات پر سب سے زیادہ زور ہے وہ یہی ہے کہ قرآن کریم کی اہمیت کو گرایا جائے۔چنانچہ نولڈ کے جو جرمنی کا ایک مشہور مصنف اور اسلام کا بہت بڑا دشمن ہے اور یورپ میں عربی زبان کا بہت بڑا ماہر سمجھا جاتا ہے اس نے انسائیکلو پیڈیا بریٹیز کا میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں غلطیاں اور نقائص ثابت کرنے کے لئے یورپین مصنفوں نے بڑا زور لگایا ہے مگر وہ