فضائل القرآن — Page 271
فصائل القرآن نمبر ۵ 271 غلطیاں معلوم ہوتی ہیں اور یہ امر واضح ہوتا ہے کہ اس وقت سوائے قرآن کریم کے کوئی قابل عمل کتاب نہیں ہے۔قرآن کریم اس دعویٰ کو خود پیش کرتا ہے۔فرماتا ہے:۔تالله لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۖ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيْهِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (النحل آیت ۶۴ - ۶۵) قرآن کریم کے چھ دعوے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے چھ دعوے پیش کئے گئے ہیں۔پہلا یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے بھی رسول آتے رہے ہیں۔چنانچہ فرمایا۔تاللهِ لَقَد أَرْسَلْنَا إِلَى أمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ۔مجھے اپنی ذات ہی کی قسم کہ پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے جاتے رہے ہیں۔دوسرا دعویٰ یہ فرمایا کہ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطنُ أَعْمَالَهُمْ اس کے بعد وہ قومیں بگڑ گئیں۔اُن کو جو تعلیمیں دی گئی تھیں اُن میں انہوں نے نقص پیدا کر دیا اور لوگوں نے اپنے نفسانی خیالات کو خوبصورت سمجھنا شروع کر دیا۔انسان کی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ پہلے وہ بدی کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر اُس کی تائید میں دلائل لاتا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرماتے تھے۔ایک چور سے میں نے پوچھا کہ کبھی تمہیں چوری کرتے ہوئے شرم نہیں آئی۔اس کے جواب میں اُس نے کہا اصل میں حلال کی کمائی تو ہماری ہی ہوتی ہے۔ہم خطرات میں پڑ کر مال حاصل کرتے ہیں۔چونکہ اس طرح ہمیں بہت محنت اور مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے۔اس لئے جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ ہمارے لئے حلال ہوتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ چور بھی اپنی چوری کو جائز قرار دینے کے لئے دلیل پیش کرتے ہیں۔غرض پہلے انسان بدی کرتا ہے اور پھر اس کے جواز کی دلیلیں بناتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت میں نیکی رکھی ہے جو بُرے فعل پر اس کو ملامت کرتی ہے۔چونکہ انسان