فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 434

فضائل القرآن — Page 270

فصائل القرآن نمبر ۵ 270 جو اُن کی سمجھ میں آسکتے ورنہ قرآن کا کوئی مضمون ایسا نہیں جسے کوئی انسان سمجھ نہ سکے ہاں میں اپنی طرف سے کوشش کرتا ہوں کہ آسان الفاظ میں تقریر کروں۔باقی روانی میں بعض اوقات مشکل الفاظ بھی نکل جاتے ہیں مگر اس سے مضمون خراب نہیں ہوتا۔قرآن کریم کی فضیلت پر نویں دلیل میں اس وقت تک قرآن کریم کے افضل ہونے کی آٹھ دلیلیں بیان کر چکا ہوں۔آج نویں دلیل پیش کرتا ہوں۔نویں دلیل قرآن کریم کی دوسری الہامی کتب سے یا دوسرے فلسفوں سے افضل ہونے کی یہ ہے کہ وہ تمام گذشتہ مذاہب کی الہامی کتب میں یا مذہبی فلسفوں میں جو غلطیاں ہیں اُن کو واضح کرتا ہے اور نہ صرف اُن کی غلطیاں واضح کرتا ہے بلکہ اُن کی اصلاح بھی کرتا ہے اور یہ سیدھی بات ہے کہ جو غلطی نکالتا ہے وہ اس سے افضل ہوتا ہے جس کی غلطی نکالی جاتی ہے اور غلطی نکالنے والا اُستاد اور ماہر فن ہوتا ہے۔اس دلیل کے مطابق قرآن کریم کی جو افضلیت ثابت ہوگی وہ موجودہ الہامی کتب اور موجودہ مذاہب پر ثابت ہوگی کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ قرآن کریم جو غلطی نکالے وہ اصل کتاب میں نہ ہو بلکہ بعد میں داخل ہو گئی ہو۔یا اس مذہب میں وہ بات نہ ہو اور بعد میں لوگوں نے اس کی طرف منسوب کر دی ہو کیونکہ تمام مذاہب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ان میں کوئی جھوٹی اور غلط بات خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔پس قرآن کریم جہاں کسی سابقہ کتاب کو نا مکمل بتائے گا وہاں یہ معنے ہونگے کہ پہلی کتب میں وہ بات نہ تھی اور جہاں یہ ظاہر کرے گا کہ فلاں بات غلط ہے وہاں یہ معنے ہونگے کہ وہ بات خدا نے نہیں بتائی۔پھر جہاں قرآن فلسفہ کی غلطیاں بتائے گا وہاں اس کا یہ مطلب ہوگا کہ لوگوں نے اپنی عقل سے وہ باتیں بنائیں جو غلط ہیں۔میں نے کہا ہے کہ پہلی کتابوں میں اصل میں وہ غلطیاں نہ تھیں جو قرآن بتاتا ہے۔اس لحاظ سے بھی قرآن کریم اُن سے افضل ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ کتابیں اب محترف و مبدل ہیں اور چونکہ دنیا کے سامنے وہ موجود شکل میں آتی ہیں اور تو میں اُن پر عمل کرتی ہیں وہ اُن سے نقصان اٹھاتی ہیں۔اس لئے قرآن کی افضلیت بہر حال ثابت ہے کیونکہ اس کے ذریعہ لوگوں کو سابقہ کتب کی