فضائل القرآن — Page 245
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ کتب سماویہ کی تفصیل 245 اب میں تفسیری بات بیان کرتا ہوں کہ قرآن کریم کتب سماویہ کی تشریح اور تفصیل بیان کرنے والا ہے۔اس میں علوم روحانیہ کو کھول کر بیان کیا گیا ہے اور انہیں کمال تک پہنچایا گیا ہے۔میں اس کی ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔تو رات میں لکھا تھا :- تیری آنکھ مروت نہ کرے کہ جان کا بدلہ جان۔آنکھ کا بدلہ آنکھ۔دانت کا بدلہ دانت۔ہاتھ کا بدلہ ہاتھ اور پاؤں کا بدلہ پاؤں ہوگا ، 77″ اور انجیل میں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ :- تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے۔دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا گر تہ لینا چاہے تو چوندہ بھی اسے لے لینے دے اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار لے جائے اس کے ،، ساتھ دو کوس چلا جا۔“ مگر قرآن کریم نے کہا ہے۔وَجِزَؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظلمين۔یعنی شرارت کے مطابق بدی کا بدلہ لے لینا تو جائز ہے لیکن جو شخص معاف کر دے اور اس میں دوسرے کی اصلاح پر نظر رکھے اللہ تعالیٰ اسے خود اجر دے گا۔اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔تورات نے ایک حصہ تو بیان کیا تھا اور دوسرا چھوڑ دیا تھا اور انجیل نے دوسرا حصہ بیان کیا اور پہلا حصہ چھوڑ دیا۔قرآن کریم نے اس تعلیم کو مکمل کردیا۔فرمایا بدی کا بدلہ لے لینا جائز ہے لیکن جو شخص معاف کر دے ایسی صورت میں کہ بدی نہ بڑھے اس کا اجر اللہ پر ہے۔ہاں جو ایسے طور پر