فضائل القرآن — Page 241
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 241 ارقم ، حضرت عثمان بن مظعونؓ اور حضرت سعید بن زید تھے۔یہ لوگ ابتداء میں ہی ایمان لے آئے تھے اور وہ رؤساء جو رسول کریم صلی یا اسلم کو دکھ دینے میں سب سے بڑھے ہوئے تھے یہ ان کے بیٹے اور بھانجے اور بھتیجے تھے۔ان کے مسلمان ہو جانے کی وجہ سے کفار کو اور زیادہ غصہ آتا کہ یہ اپنے باپ دادا کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تائید کرتے ہیں۔حضرت عثمان بن مظعون ، ولید بن مغیرہ کے عزیز تھے اور اس نے ان کو پناہ دی ہوئی تھی۔حضرت عثمان ایک دن باہر جارہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک مسلمان پر سخت ظلم کیا جارہا ہے مگر آپ کو کسی نے کچھ نہ کہا۔انہوں نے ولید کے پاس جا کر کہا کہ میں اب آپ کی پناہ میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ میں یہ نہیں دیکھ سکتا کہ دوسرے مسلمانوں کو تو اس طرح دکھ دیا جائے اور میں آپ کی پناہ میں محفوظ رہوں۔اللہ تعالیٰ مومن کے ایمان کی آزمائش کرتا ہے۔ادھر انہوں نے پناہ ترک کی اور ادھر یہ حادثہ پیش آگیا کہ لبید جو ایک بہت بڑے شاعر تھے ایک مجلس میں شعر سنارہے تھے کہ ایک شعر انہوں نے پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہر چیز خدا کے سوا تباہ ہونے والی ہے اور ہر نعمت آخر میں زائل ہونے والی ہے۔جب لبید نے پہلا مصرع پڑھا تو حضرت عثمان نے کہا ٹھیک ہے۔اس پر لبید نے غصہ سے اس کی طرف دیکھا کہ ایک بچہ میرے کلام کی داد دے رہا ہے۔اسے اس نے اپنی ہتک سمجھا اور کہا اے مکہ والو! پہلے تو تم میں ایسے بدتہذیب لوگ نہ تھے۔اب تمہیں کیا ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا یہ بے وقوف بچہ ہے۔اسے جانے دیں حالانکہ بات یہ تھی کہ انہوں نے قرآن سنا ہوا تھا اور اب ان کے نزدیک شعروں کی کچھ حقیقت ہی نہیں رہ گئی تھی بلکہ خود لبید نے مسلمان ہونے پر یہی طریق اختیار کیا۔حضرت عمر نے ایک دفعہ اپنے ایک گورنر کو کہلا بھیجا کہ مجھے بعض مشہور شعراء کا تازہ کلام بھجواؤ۔جب ان سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا تو انہوں نے قرآن کریم کی چند آیات لکھ کر بھیج دیں۔جب لبید نے دوسرا مصرع پڑھا اور کہا کہ ہر نعمت زائل ہونے والی ہے تو عثمان نے کہا یہ غلط ہے جنت کی نعمتیں کبھی زائل نہیں ہونگی۔یہ سن کر اسے طیش آ گیا اور اس نے اہل مجلس سے کہا کہ تم نے میری بڑی ہتک کرائی ہے۔اس پر ایک شخص نے عثمان کو برا بھلا کہا اور اس زور سے مکا مارا کہ ان کی آنکھ نکل گئی۔ولید کھڑا دیکھ رہا تھا۔اس نے کہا دیکھا میری پناہ میں سے نکلنے کا یہ نتیجہ ہوا۔