فضائل القرآن — Page 240
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 240 إنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْابَتَرُ۔رسول کریم سی لا اله اتم سے متعلق دشمن کہا کرتا کہ یہ ابتر ہے۔اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں۔اس کے بعد اس کا جانشین کون بنے گا۔اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں فرماتا ہے کہ تو ابتر نہیں بلکہ تیرا دشمن ابتر ہے۔رسول کریم می ایستم کس طرح ابتر نہیں اور آپ کا دشمن کس طرح ابتر ہے۔اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے انا أعطينكَ الْكَوْثَرَ۔اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تیرے متعلق فیصلہ کر دیا ہے کہ ہم تجھے ایک عظیم الشان جماعت دیں گے جو روحانی طور پر تیری فرزند ہوگی اور اس میں بڑے بڑے اعلیٰ پایہ کے انسان ہوں گے۔پھر فرماتا ہے۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَر - اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اس خوشی میں خوب نمازیں پڑھ، دُعائیں کر اور قربانیاں کر۔پھر جب ہم تیری جماعت کو اور بڑھانے لگیں تو تو اور عبادت کر اور قربانیاں کر کیونکہ ہم تیری روحانی نسل کو بڑھانے والے ہیں اور یہ روحانی نسل اس طرح بڑھے گی کہ ابو جہل کا بیٹا چھینیں گے اور تجھے دے دیں گے۔وہ ابتر ہو جائے گا اور تو اولا دوالا ہوگا۔یہی حال دوسروں کا ہوگا۔ان کے بیٹے چھین چھین کر ہم تمہیں دے دیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ان کے بیٹے رسول کریم سینی یا یہ تم کو دیئے گئے اور وہ روحانی لحاظ سے ابتر ہو گئے۔یہی وجہ تھی کہ جوں جوں رسول کریم ملتی ہی ایم کو کامیابی ہوتی گئی۔کفار زیادہ تکلیفیں دیتے گئے۔اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا جو سورۃ کوثر میں بیان کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ انبیاء رکوع ۴ میں ذکر کیا ہے۔فرماتا ہے۔اَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ ۵۵) فرمایا کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ ہم ان کے ملک کو اس کے کناروں کی طرف سے چھوٹا کرتے جارہے ہیں اور ہر روز ان کی اولادیں محمد رسول اللہ سالہ پیر کو دے رہے ہیں۔کیا اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ غالب آئیں گے۔وہ غالب کس طرح آ سکتے ہیں جب کہ ہم ان کے جگر گوشے کاٹ کاٹ کر تیرے حوالے کرتے جارہے ہیں اور انہی ابتر کہنے والوں کے بچے اور عزیز اسلام میں داخل ہو کر اس کی صداقت ظاہر کر رہے ہیں اور کفار کو بے اولا د اور آنحضرت سلیم کو با اولا دثابت کر رہے ہیں۔چنانچہ مکہ کے بڑے بڑے خاندانوں کے جو بیٹے اور بھتیجے رسول کریم اللہ کو دیئے گئے ان میں حضرت عثمان ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ ، حضرت ابوعبیدہ ، حضرت ارقم بن ابی