فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 434

فضائل القرآن — Page 217

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 217 احلام ہوتی ہیں کیا ان کی خوابوں میں قومی ترقی کا بھی سامان ہوتا ہے؟ پراگندہ خواب تو پراگندہ نتائج ہی پیدا کر سکتی ہے مگر اس پر تو وہ کتاب نازل کی گئی ہے جو تمہارے لئے عزت اور شرف کا موجب ہے۔کیا دماغ کی خرابی سے ایسی ہی تعلیم حاصل ہوتی ہے؟ تم اپنے آپ کو عقلمند کہتے ہو۔کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھ سکتے ؟ تیسرا اعتراض پھر بعض اور لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ هذا ساحرات کہ یہ جادو گر ہے۔سحر کے معنی عربی زبان میں جھوٹ کے بھی ہوتے ہیں مگر مخالفین نے رسول کریم صلی یا ہی ان کو الگ بھی جھوٹا کہا ہے۔اس لئے اگر اس کے معنی جھوٹ کے ہوں تو اس کا جواب علیحدہ ہوگا۔دوسرے معنی سیحر کے یہ ہوتے ہیں کہ باطن میں کچھ اور ہو اور ظاہری شکل میں کچھ اور دکھائی دے۔اللہ تعالٰی اس کے جواب میں فرماتا ہے۔وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِر اگر یہ لوگ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی نشان دیکھتے ہیں تو اعراض کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم ان باتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔یہ بڑا پرانا جادو ہے۔آگے فرماتا ہے حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ قرآن میں تو حکمت بالغہ ہے۔قرآن میں ایسے مضامین ہیں جو دلوں میں تبدیلی پیدا کرنے والے ہیں۔سینہ کے معنی تو یہ ہیں کہ ظاہر کو سخ کر دیا جائے اور باطن آزاد رہے مگر قرآن کا اثر تو یہ ہے کہ ظاہر کی بجائے دلوں کو بدلتا ہے۔اس لئے اسے سخر نہیں کہہ سکتے۔یہ حکمت بالغہ ہے یعنی حکمت کی ایسی باتیں ہیں جو دور تک اثر کرنے والی ہیں۔یہ اندرونی جذبات اور افکار پر اثر ڈالتی ہیں مگر ان لوگوں کو یہ انذار فائدہ نہیں دیتا۔چوتھا اعتراض پھر بعض نے کہا کہ یہ ساحر تو معلوم نہیں ہوتا ہاں مسحور ضرور ہے یعنی خود تو بڑا اچھا ہے لیکن کسی نے اس پر سحر کر دیا ہے اس لئے یہ ایسی باتیں کہتا پھرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَالَ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا "