فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 434

فضائل القرآن — Page 207

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ پہلی کتب میں بگاڑ پیدا ہونے کی وجہ 207 اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلی کتب کے بگڑنے کا موجب بھی یہی ہوا کہ وہ کلام اللہ نہ تھیں۔چونکہ ان میں خود انبیاء کی تشریحات اور رویا اور کشوف اور تفہیمات ان کے الفاظ میں ہوتے تھے اس لئے لوگوں کے دلوں میں حفاظت کا اس قدر گہر ا خیال نہیں ہوسکتا تھا۔جب حضرت موسیٰ کے صحابیوں نے دیکھا کہ حضرت موسی پر وحی ہوئی جو انہوں نے لکھوا دی اور ساتھ ہی اپنا رؤیا اور کشف بھی لکھا دیا۔ساتھ ہی یہ بھی لکھوا دیا کہ مجھے یہ خیال آیا جو الہامی خیال ہے تو ایسی باتوں سے ان کو جرات ہوئی کہ جو بات تو ریت سے انہیں سوجھتی اسے بھی اس میں داخل کر دیتے اور وہ خیال کرتے کہ اگر ہم نے اپنی تفہیم بطور یادداشت لکھ دی تو کیا حرج ہوا اور چونکہ ہر شخص اپنی تفہیم کو صحیح سمجھتا ہے۔اس لئے وہ اسے خدائی امر ہی سمجھتے تھے۔اس طرح وہ کتب بگڑ گئیں۔حالانکہ اگر وہ سمجھتے تو نبی کی تفہیم الہامی ہونے کی وجہ سے کتاب کا حصہ تھی مگر ان کی نہیں بلکہ اگر کسی دوسرے کی الہامی تفہیم بھی ہوتب بھی وہ پہلے نبی کی تفہیم کی طرح اس کتاب کا حصہ نہیں کہلا سکتی۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی نیلم کے صحابہ نے دیکھا کہ جب وہ آپ کے پاس آتے تو آپ فرماتے۔آج خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہوئی ہے۔صحابہ کہتے لکھ لیں۔آپ فرماتے لکھ لیا جائے۔پھر فرماتے یہ کشف ہوا ہے یہ رویا تھی۔آپ اس کا مفہوم بیان فرماتے اور کہتے یہ وحی میں نہ لکھا جائے۔جب صحابہ دیکھتے کہ رسول کریم سا نہ ہی ہم خود بھی وحی میں کچھ نہیں بڑھا سکتے تو وہ سمجھتے کہ ہم کس طرح اس میں کچھ داخل کر سکتے ہیں۔رسول کریم صلی ہم اپنی طرف سے تو الگ رہا خدا تعالیٰ کی دوسری وحی کو جورڈ یا اور کشف کی شکل میں ہوتی یا جس کے ذریعہ کوئی مفہوم دل میں ڈالا جاتا وہ بھی اس میں شامل نہ کرتے تو ہم کس طرح اس وحی میں کچھ شامل کر سکتے ہیں لیکن پہلے انبیاء چونکہ اپنی تشریحات ، رویا، کشوف اور تفہیمات اپنے الفاظ میں درج کرتے تھے اس لئے ان کے پیروؤں کو اپنی تفہیمات درج کر دینے کی بھی جرات ہو گئی۔محققین بائیبل کا بھی یہی خیال ہے کہ صحف قدیمہ میں جو اضافہ ہوا ، وہ اس طرح ہوا کہ جو بات کسی کو سو جبھی وہ اس نے اس میں لکھ دی لیکن قرآن کریم چونکہ خالص کلام اللہ ہے۔رسول