فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 434

فضائل القرآن — Page 206

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 206 دیتے تو کیوں نہ کر دیتے؟ اسی طرح اگر حضرت عیسی کے لئے ممکن ہوتا تو وہ بھی کیوں نہ کر دیتے۔یہ فضیلت صرف رسول کریم صلی ہی ہم کو ہی حاصل ہے کہ ساری کی ساری شریعت آپ کو وحی کے الفاظ میں عطا ہوئی۔باقی سب انبیاء کی کتب میں کچھ کلام الہی تھا کچھ نظارے تھے اور کچھ مفہوم جسے انہوں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا۔اگر وہ نظاروں اور مفہوم کے حصہ کو علیحدہ کر دیتے تو ان کی کتابیں نامکمل ہو جاتیں کیونکہ ان کا سارا دین کلام اللہ میں محصور نہیں۔کچھ رویا اور کشوف ہیں اور کچھ وحی خفی کے ذریعہ سے تھا۔اگر وہ کلام اللہ کو الگ کرتے تو ان کا دین ناقص رہ جاتا۔برخلاف اس کے قرآن کریم میں سب دین آگیا ہے اور کلام اللہ میں ہی سب دین محصور ہے۔پس قرآن کے سوا اور کسی نبی کی کتاب کا نام کلام اللہ ہو ہی نہیں سکتا۔یہ نام صرف قرآن کریم کا ہی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اکمل بنانا تھا اسلام کو اکمل دین اور قرآن کو آخری کلام بنانا تھا اس لئے ضروری تھا کہ اسے ایسا محفوظ بنا تا کہ کوئی مطلب فوت نہ ہو اور اس کی ایک ہی صورت تھی اور وہ یہ کہ عالم الغیب خدا کے الفاظ میں سب کچھ بیان ہو۔رؤیا اور کشوف میں جھگڑے اور اختلاف پڑ جاتے ہیں۔اس لئے شریعت اسلامیہ کو خدا تعالیٰ نے اپنے الفاظ میں اُتار کر اس کا نام کلام اللہ رکھا اور کہہ دیا کہ اس کے سب الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے سوا اور کوئی ایسی کتاب نہیں جس کے الفاظ سے نئے نئے مضامین نکلتے چلے آئیں۔صرف قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جس کے مطالب کبھی ختم نہیں ہوتے۔رات دن قرآن کریم کو پڑھو۔قرآن کے حقائق کبھی ختم نہ ہونگے۔اس کی حکمتیں نکلتی چلی آتی ہیں اور ہر لفظ پر حکمت معلوم ہوتا ہے۔پرانے زمانہ کی کہانیوں میں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک تھیلی ہوتی تھی جس میں سے ہر قسم کے کھانے نکلتے آتے تھے مگر یہ تو وہمی اور خیالی بات تھی۔قرآن کریم واقع میں ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔اس کی جگہ دوسری کتب میں یہ بات نہیں۔مثلاً مسیحی وغیرہ خود اقرار کرتے ہیں کہ اصل عبارتوں میں غلطیاں ہوگئی ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ پہلے انبیاء پر کلام اللہ نازل نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ ہے کہ ان کا سب دین اور سب کتاب کلام اللہ میں محصور نہ ہوتے تھے۔