فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 434

فضائل القرآن — Page 200

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 200 نہیں۔میں نے اس کے دو ثبوت پچھلے سال بیان کئے تھے اب میں تیسرا ثبوت اس امر کا کہ قرآن کریم میں تبدیلی نہیں ہو سکتی بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کلام اللہ ہے اور کلام اللہ میں عقلاً انسانی تبدیلی ناممکن ہے۔شاید اکثر لوگ حیران ہوں کہ کلام اللہ تو باقی کتابیں بھی ہیں۔پھر قرآن کو یہ خصوصیت کس طرح حاصل ہوئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو کتاب نازل ہوئی وہ بھی کلام اللہ تھی۔اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر انبیاء پر بھی خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوا۔جب وہ بھی کلام اللہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ ان میں تو نہ صرف تبدیلی ہوسکتی ہے بلکہ ہوئی اور قرآن میں نہ ہوئی بلکہ نہیں ہوسکتی۔ایک ہی چیز میں یہ فرق کیوں ہے؟ میں ابھی بتاؤں گا کہ یہ حیرت در حقیقت درست نہیں اور یہ قرآن کریم کی افضلیت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے کہ یہ کلام اللہ ہے۔اس وجہ سے قرآن نہ صرف غیر الہامی کتب سے افضل ہے یا الہامی کتب کی موجودہ شکل سے ممتاز ہے۔بلکہ یہ اس کی ایسی فضیلت ہے کہ اس میں کبھی بھی کوئی کتاب اس کی شریک نہیں ہوئی۔پہلی الہامی کتب کلام اللہ نہیں تھی یہ ایک غلط خیال ہے کہ پہلی الہامی کتب بھی کلام اللہ تھیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ موجودہ توریت کلام اللہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کو جو کتاب دی گئی تھی۔وہ بھی کلام اللہ نہ تھی۔اسی طرح میرا یہ مطلب نہیں کہ موجودہ انجیل کلام اللہ نہیں۔یہ تو حضرت مسیح علیہ السلام پر نازل ہی نہیں ہوئی مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مسیح پر جو انجیل نازل ہوئی وہ موجود ہوتی تو بھی ہم یہی کہتے کہ وہ کلام اللہ نہیں۔وہ کتاب اللہ ھی وہ مَا أُنزِلَ عَلَى الْمَسِیح تھی مر کلام اللہ ہی تھی۔اسی طرح اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحف آج موجود ہوتے اور اگر حضرت نوح علیہ السلام کے صحف آج موجود ہوتے اور اگر ایک لفظ بھی ان میں کسی انسان کا داخل نہ ہوتا تب بھی وہ کلام اللہ نہ ہوتے۔ہاں کتاب اللہ ہوتے۔قرآن کریم میں کلام اللہ کا لفظ تین جگہ استعمال ہوا ہے اور تینوں جگہ قرآن کے متعلق ہی استعمال ہوا ہے اور قرآن ہی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ کلام اللہ ہے۔اول سورۃ تو بہ رکوع اول میں آتا ہے۔وَاِن اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ