فضائل القرآن — Page 199
199 فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ میں شروع کیا تھا اور فرمایا تھا کہ تین سو دلائل اس کے متعلق پیش کروں گا۔میں نے اس کے متعلق غور کیا ہے اور غور کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ واقعہ میں تین سو دلائل بیان کئے جا سکتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بتائے ہوئے علوم اور آپ کے لائے ہوئے نور سے مستفیض ہو کر براہین احمدیہ کی اپنے فہم اور اپنے درجہ کے مطابق تشریح کی جاسکتی ہے۔تفسیر القرآن کا دیباچہ براہین احمدیہ میرے نزدیک تفسیر القرآن کا دیباچہ ہے۔تفسیر القرآن لکھتے وقت پہلے جن مضامین پر سیر گن بحث کرنی چاہئے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ میں شروع کیا تھا دل چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اس کی ظاہری تکمیل بھی ہو جائے۔باطنی تکمیل تو اللہ تعالیٰ نے کر دی تین سو دلائل چھوڑ کئی لاکھ آسانی دلائل آپ نے پیش کر دیئے۔لیکن جب آسمانی دلائل پیش ہو چکے تو ان ظاہری دلائل کو بھی پیش کر دینا سلسلہ کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔جی چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کو توفیق دے تو وہ براہین احمدیہ کا ظاہری مقصد بھی پورا کر دے۔میں نے پہلے کچھ تمہیدی ریمارکس اس مضمون کے متعلق ۱۹۲۸ء میں بیان کئے تھے اور ۱۹۳۰-۱۹۲۹ء کی تقریروں میں چھ دلیلیں قرآن کریم کی افضلیت کے متعلق بیان کی تھیں اور ۱۹۳۰ء کے جلسہ کے موقع پر ساتویں دلیل بیان کرنے سے پہلے ہی لمبا وقت ہو گیا تھا اور ادھر مجھے ضعف ہونے لگ گیا تھا۔اس وجہ سے اس تقریر کو جلد ختم کر دینا پڑا۔اس ساتویں دلیل کا ایک حصہ ابھی باقی تھا۔اب میں اسے بیان کروں گا اور اس کے بعد آٹھویں دلیل شروع کروں گا۔ساتویں دلیل کا بقیہ حصہ حصم میں اس مضمون پر پچھلے سال بیان کر رہا تھا کہ قرآن کریم نہ صرف اس لحاظ سے محفوظ ہے کہ کوئی انسانی ملاوٹ اس میں نہیں ہوئی بلکہ کوئی انسانی ملاوٹ اس میں ہو بھی نہیں سکتی۔گویا قرآن کریم کو یہی فضیلت حاصل نہیں کہ باقی آسمانی کتابوں میں انسانی تصرف ہو چکا ہے مگر اس میں نہیں ہوا بلکہ اس کی یہ بھی فضیلت ہے کہ دوسری کتابوں میں انسانی تصرف ممکن ہے مگر قرآن میں ممکن بھی