فضائل القرآن — Page 192
فصائل القرآن نمبر۔۔۔192 اس طرح پیش کی کہ اس اختلاف کے بانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے نہ رہ سکے اور گر گئے مگر غور کر کے دیکھو کہ مسیح کے بعد کیا ہوا۔ابھی وہ زندہ ہی تھے کہ صلیب کے واقعہ کے بعد بگاڑ شروع ہو گیا اور حضرت موسی کی بھی زندگی میں ہی خدا تعالیٰ سے لوگ شرک کرنے لگے وہاں حضرت ہارون جیسے اور مسیح کے وقت پطرس جیسے لوگ کچھ نہ کر سکے اور حواریوں کی موجودگی میں گمراہی شروع ہوگئی گو حواری خدا تعالیٰ کے فضل سے محفوظ تھے۔جیسا کہ قرآن کریم میں ان کی تعریف آئی ہے اور شرک بھی بہت بعد جا کر پھیلا ہے لیکن خرابی شروع ہو گئی تھی جو اباحت کے رنگ میں تھی۔اس کے بعد جس جس زمانہ میں تغیر ہوا اس کی اصلاح ہوگئی اور ہمیشہ امت محمدیہ میں ایسے انسان پیدا کئے جاتے رہے جو قرآن کریم کے ذریعہ ہر قسم کے اختلافات کو دُور کرتے رہے۔اس کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب کی حالت بدلتی چلی گئی اور اصلاح کرنے والے کوئی پیدا نہ ہوئے۔اس آخری زمانہ میں ہی دیکھ لو کہ کس طرح اسلام کو پھر خدا تعالیٰ اپنی اصل حالت پر لے آیا ہے اور قرآن کریم کس طرح اپنے اصلی مفہوم پر قائم ہو گیا ہے۔موجودہ زمانہ میں جتنی خرابیاں قرآن کریم کی غلط تفسیریں کرنے کی وجہ سے پیدا ہو چکی تھیں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر دور کر دیا اور قرآن کریم کو اسی طرح اجلا کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا جیسے رسول کریم سی سی کی یتیم کے زمانہ میں تھا۔حفاظت قرآن کا دائمی وعدہ پس قرآن کریم کی دائی حفاظت کا جو وعدہ خدا تعالیٰ نے کیا وہ پورا ہوا اور کوئی شخص آج تک نہ ظاہری طور پر قرآن کو بگاڑ سکا اور نہ باطنی طور پر اور جب آج تک کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ وعدہ پورا ہوتا رہا ہے تو آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔خدا تعالیٰ نے خود بتا دیا ہے کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتی کا آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنے احسان کو پورا کر دیا ہے۔پس جب مکمل دین آگیا اور نعمت کامل ہو گئی تو آب اور کسی دین کی ضرورت ہی نہ رہی۔اب جو بھی مامور آئے گا اس کی تائید میں آئے گا اور اس وجہ سے قرآن قیامت تک بگڑ نہیں سکے گا۔اگر قرآن کو کوئی بدل سکتا ہے تو خدا ہی بدل سکتا ہے لیکن خدا نے اپنے