فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 434

فضائل القرآن — Page 187

فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔friends and amanuenses۔Ar 187 یعنی قرآن کا لوگوں پر اتنا رعب تھا کہ اس کے متعلق وہ خود اپنی عقل سے کوئی فیصلہ نہ کرتے تھے بلکہ رسول سے پوچھتے تھے یا پھر حفاظ اور قرآن کی نقلوں سے مقابلہ کرتے تھے۔خود بخود کوئی فیصلہ نہیں کرتے تھے۔دوسری بات اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ مَرْفُوعَة یعنی باطنی طور پر بھی اس میں کوئی خرابی نہیں آسکتی کیونکہ اس کے مطالب کو بلند بنایا گیا ہے اور اس میں علوم ایسے رنگ میں رکھے گئے ہیں کہ انہیں خدا کا کلام یقین نہ کرنے والے سمجھ ہی نہیں سکتے اور بگاڑتا کوئی اسی وقت ہے جب مطلب سمجھ سکے اور جانتا ہو کہ اس میں یہ تغیر کر دوں گا تو یہ بات بن جائے گی۔غرض فرمایا۔قرآن کےمطالب ایسے رنگ میں رکھے گئے ہیں کہ جو لوگ انہیں سمجھتے ہیں وہ بگاڑتے نہیں اور جود شمن ہیں وہ کہتے ہیں اس میں رکھا ہی کیا ہے یہ بے معنی الفاظ کا مجموعہ ہے اس وجہ سے وہ بگاڑنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔سرولیم میور اس بارے میں لکھتا ہے۔The Contents and the arragnment of the Coran speak forcibly for its authenticity۔All the fragments that could obtained have, with artless simplicity, been joined together۔the patchwork marks of a designing genius or bears no moulding hand۔A اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ ہی بتا رہے ہیں کہ کسی نے اسے بگاڑا نہیں۔تمام ٹکڑے اس سادگی سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے گئے ہیں کہ پتہ لگتا ہے کہ وہ گودڑی جس کے ساتھ چیتھڑے جوڑے گئے ہیں کسی عقلمند نے انہیں نہیں جوڑا۔اب اس قسم کے مرفوع کلام میں کسی کو جرات ہی کب ہو سکتی ہے کہ کچھ داخل کرے۔جو سمجھتے ہیں وہ برا ہیں اور جو نہیں سمجھتے وہ اسے ایک بے معنی کلام سمجھتے ہیں اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے۔تیسری بات یہ بتائی کہ یہ کتاب ہر نقص سے پاک بنائی گئی ہے اور ایسی اعلی چیز میں جو دخل