فضائل القرآن — Page 185
فصائل القرآن نمبر۔۔۔185 چکے ہیں۔وید میں دوسروں کی عورتوں کو اغوا کرنے اور چوری کرنے کے متعلق دُعا ئیں سکھائی گئی ہیں اور ایسے منتر موجود ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح چوری کرنی چاہئے کہ چور گھر والوں کو نظر نہ آئے۔جس کتاب میں چوری اور ادھالے کی دُعائیں ہوں وہ کیونکر مس شیطانی سے محفوظ سمجھی جاسکتی ہے۔اس قسم کی باتوں سے تو صاف ظاہر ہے کہ شیطان نے ان کتابوں کو چھو لیکن اس کے مقابلہ میں قرآن نہ صرف دعوی طہارت کرتا ہے بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کوئی اسے بگاڑ ہی نہیں سکتا اور اگر کوئی اسے خراب کرنا چاہے گا تو اس پر ٹھٹھب گریں گے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں دوسری کتب کو لوگ آئے دن بگاڑتے رہتے ہیں۔حال ہی میں بائیبل کے متعلق خود عیسائیوں کی طرف سے اعلان ہوا ہے کہ: بائیمیل سو سائٹی نے کمال دور اندیشی سے نئے ترجمہ کی تھوڑی سی جلد میں اس غرض سے شائع کی ہیں کہ اس ترجمہ پر جو اعتراضات موصول ہوں ان کو پیش نظر رکھ کر مناسب تبدیلیاں کر لی جائیں۔‘۱۰ اسی طرح انجیل کا ایک حصہ ہی اڑا دیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یسوع مسیح کے بیماروں کو اچھا کرنے پر جب یہ اعتراض کیا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ ایک تالاب تھا جس میں نہانے سے بیمار اچھے ہو جاتے تھے۔تو آب عیسائیوں نے اسے نکال دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی اور کتاب کا حصہ تھا جو غلطی سے انجیل میں درج ہو گیا۔مگر ہم کہتے ہیں اس سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ شیطان نے انجیل کو مست کیا مگر قرآن کو تو کوئی چھو ہی نہیں سکا۔آخر وجہ کیا ہے کہ دوسری کتابوں کے ماننے والے قرآن کو بگاڑنے کی کوشش نہیں کرتے۔اس سے انہیں ڈر کیوں آتا ہے۔روسی حکومت نے ایک دفعہ چاہا تھا کہ قرآن سے جہاد کی آیتیں نکال دے لیکن ملک میں اتنا شور پڑا کہ حکومت کو مجبور ہو کر اپنے ناپاک ارادہ سے باز رہنا پڑا۔یہ بھی مٹھب ہی تھے جو اس پر گرے۔انجیل کے متعلق کیوں ایسا نہیں ہوتا۔پھر روسی حکومت جو قرآن سے جنگ کی آیات نکالنا چاہتی تھی وہ خود جنگ کی لپیٹ میں آگئی۔