فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 434

فضائل القرآن — Page 184

فصائل القرآن نمبر۔۔۔184 اس کے اندر جو صفات ہیں ان کے ماتحت کسی اور نبی پر کلام نازل نہیں ہوا اور وہ صفات حیجی و قیوم کی ہی ہیں۔چنانچہ سورۃ آل عمران میں خدا تعالیٰ کی ان ہر دو صفات کو بیان کر کے قرآن کے نازل ہونے کا ذکر ہے۔حیی کے معنے ہوتے ہیں زندہ اور زندہ رکھنے والا ہے اور قیوم کے معنے ہیں قائم اور قائم رکھنے والا۔پس فرمایا یہ کتاب اس خدا کی طرف سے اُتری ہے جو زندہ اور زندہ رکھنے والا ہے یعنی یہ کلام ہمیشہ زندہ اور زندگی بخش رہے گا اور پھر یہ کتاب اس خدا کی طرف سے اُتری ہے جو قائم اور قائم رکھنے والا ہے۔پس اس کتاب کو بھی وہ ہمیشہ قائم رکھے گا۔آیت انگریسی کے متعلق رسول کریم ملی تم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کوئی صبح کو آیت انگریسی پڑھے تو شام تک اور شام کو پڑھے تو صبح تک شیطان سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔10 اس سے معلوم ہوا کہ قرآن ان صفات کے ساتھ خاص تعلق رکھتا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ صرف یہی کلام ہے جس کے متعلق فرمایا کہ لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ پس وہی کلام جس کے زندہ رکھنے اور محفوظ رکھنے کا وعدہ تھا اور جس سے پہلے کسی کلام کے متعلق یہ وعدہ نہ تھا۔حالانکہ وہ آسمانی کلام تھے اور جس سے پہلے کلاموں کو لوگ چھوتے تھے اور جس کے چھونے سے لوگوں کو روکا گیا تھا صاف ظاہر ہے کہ اس کلام کی طرف آنا لمسنا والی آیت میں اشارہ ہے۔نیز یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اگر حفاظت سے مراد قرآن کریم کی حفاظت نہ تھی تو کفار کے سوال میں مطب کے نزول کے ذکر کے کیا معنے ہیں؟ کفار تو قرآن کے متعلق سوال کرتے تھے پھر یہ کیا جواب ہوا کہ آسمان پر شیطان نہیں جاسکتا اور اگر جاتا ہے تو اس پر شہاب گرتا ہے۔کتب سابقہ میں تحریف اب عملا د یکھ لو پہلی آسمانی کتب کس طرح خراب کر دی گئیں۔تو رات میں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی خود حضرت موسیٰ کی موت کا ذکر ہے۔اسی طرح انجیل میں حضرت مسیح کی موت کا ذکر ہے۔ژند اوستا کے متعلق خود پارسیوں کا بیان ہے کہ مسلمانوں نے اُسے بگاڑ دیا۔میں کہتا ہوں یہ تو پیچھے دیکھا جائے گا کہ مسلمانوں نے پارسیوں کی آسمانی کتاب میں کیا تصرف کیا لیکن ان کے بیان سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ ان کی کتاب بگڑ چکی ہے۔ویدوں کی بناوٹ ہی بتاتی ہے کہ وہ بگڑ