فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 434

فضائل القرآن — Page 164

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 164 مجموعے کا نام انسانیت ہے تو ماننا پڑے گا کہ انسانیت کو مکمل کرنے کے لئے مرد و عورت کا ملنا ضروری ہے اور جو مذہب ان کو علیحدہ علیحدہ رکھتا ہے وہ انسانیت کی جڑ کاتا ہے۔اگر مذہب کی غرض دنیا میں انسان کو مکمل بنانا ہے تو یقینا مذہب اس عمل کی مخالفت نہیں کرے گا بلکہ اسے اپنے مقصد کے حصول کے لئے استعمال کرے گا اور جو مذہبی کتاب بھی اس طبعی فعل کو بر اقرار دے کر اس سے روکتی ہے یا اس سے بچنے کو ترجیح دیتی ہے وہ یقینا انسانی تکمیل کے راستہ میں روک ڈال کر اپنی افضلیت کے حق کو باطل کرتی ہے۔اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ جب مرد اور عورت ایک ہی چیز کے دوٹکڑے ہیں تو کیوں ان کو علیحدہ علیحدہ وجود بنایا ؟ کیوں ایسا نہ کیا کہ ایک ہی وجود رہنے دیتا تا کہ مرد کو عورت کی اور عورت کو مرد کی خواہش ہی نہ ہوتی۔اس کا جواب اسلام یہ دیتا ہے کہ وَمِنْ أَيْتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً " اس کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لئے جوڑے بنائے تاکہ تمہیں آپس میں ملنے سے سکون حاصل ہو۔گویا انسان میں ایک اضطراب تھا۔اس اضطراب کو دور کرنے کے لئے اس کے دوٹکڑے کر دیئے گئے اور ان کو آپس میں ملنا سکون کا موجب قرار دیا۔گیا۔اب ہم غور کرتے ہیں کہ وہ کون سا اضطراب ہے جس کا نمونہ عورت ومرد کے تعلقات ہو سکتے ہیں سو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وہی اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی کنے والا اضطراب ہے جو انسانی فطرت میں رکھا گیا ہے اور جس کے لئے تجسس کی خواہش اس کے اندر ودیعت کی گئی ہے جو اسے رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ کی طرف لے جاتی ہے۔جو چیز اپنی ذات میں مکمل ہو اس میں تنجس نہیں ہوتا لیکن جب مجنس کا مادہ ہو تو بسا اوقات لوگ کسی چھوٹی چیز کا نجس کرتے ہیں تو انہیں بڑی چیز مل جاتی ہے۔خدا تعالی بھی فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کے قلب میں تجس کی خواہش پیدا کر دی ہے۔جب وہ اس سے کام لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کی ذات اس کے سامنے جلوہ گر ہو جاتی ہے اور وہ اسے پالیتا ہے جب مرد عورت کی تلاش کر رہا ہوتا ہے اور اس کے لئے اپنے قلب میں اضطراب پاتا ہے تو خدا کہتا ہے کہ کیا میں اس قابل نہیں ہوں کہ تم میری تلاش کرو۔تب اس کی زبان سے بلی کی آواز نکلتی ہے اور وہ کہہ اُٹھتا ہے کہ آپ ہی تو اصل مقصود ہیں۔اسی طرح جب عورت مرد کی تلاش کر رہی ہوتی ہے اسے خدا کہتا ہے کہ کیا میں تلاش کرنے کے قابل نہیں ہوں۔تب وہ پکار اٹھتی ہے کہ بلی یقینا آپ ہی