فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 434

فضائل القرآن — Page 163

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 163 گیا۔اگر حضرت آدم علیہ السلام کی پہلی سے تو پیدا کی گئی تھی تو چاہئے تھا کہ پہلے گھوڑا پیدا ہوتا اور پھر اس کی پسلی سے گھوڑی بنائی جاتی۔اسی طرح جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا تو فرشتہ آتا اور اس کی پسلی کی ایک ہڈی نکال کر اس سے لڑکی بنادیتا۔مگر کیا کسی نے کبھی ایسا دیکھا ہے؟ تیسرے خدا تعالی قرآن میں فرماتا ہے کہ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إلَيْهَا هے وہ خدا ہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا اور اس سے اس کا جوڑا بھی بنایا ہے لِيَسْكُن الیها تا کہ وہ اس سے تعلق پیدا کر کے تسکین حاصل کرے۔وہ لوگ جو کہا کرتے ہیں کہ انسان کا جوڑا پہلی سے بنایا گیا ہے وہ بھی صرف یہی کہتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پہلی سے حوا کو بنایا گیا۔یہ کوئی نہیں کہتا کہ حوا کی پہلی سے آدم علیہ السلام کو بنایا گیا لیکن اس آیت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مرد کی پہلی سے عورت نہیں بنی بلکہ عورت کی پہلی سے مرد بنا ہے کیونکہ اس میں زَوْجَهَا کی ضمیر نَفْسٍ وَاحِدَةٍ کی طرف جاتی ہے جو مؤنث ہے۔اسی طرح منہا میں بھی ضمیر موقت استعمال کی گئی ہے۔اس کے بعد یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نَفْسٍ وَاحِدَةٍ سے اس کا زوج بنایا اور زوج کے لئے ليَسكُن میں مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ زوج نر تھا جو ایک مادہ سے پیدا ہوا۔پس ان معنوں کے لحاظ سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ عورت مرد کی پسلی سے نہیں بلکہ مردعورت کی پسلی سے پیدا ہوا ہے جسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔ان آیات کا اصل مطلب یہ ہے کہ عورت مرد کا اور مرد عورت کا ٹکڑا ہے اور دونوں مل کر ایک کامل وجود بنتے ہیں۔الگ الگ رہیں تو مکمل مرد نہیں ہو سکتے مکمل اسی وقت ہوتے ہیں جب دونوں مل جائیں۔اب دیکھو! یہ کتنی بڑی اخلاقی تعلیم ہے جو اسلام نے دی۔اس لحاظ سے جو مرد شادی نہیں کرتا وہ مکمل مرد نہیں ہو سکتا۔اسی طرح جو عورت شادی نہیں کرتی وہ بھی مکمل عورت نہیں ہو سکتی۔پھر جو مرد اپنی عورت سے حسن سلوک نہیں کرتا اور اسے تنگ کرتا ہے وہ بھی اس تعلیم کے ماتحت اپنا حصہ آپ کا تا ہے۔اسی طرح جو عورت مرد کے ساتھ عمدگی سے گزارہ نہیں کرتی وہ بھی اپنے آپ کو نامکمل بناتی ہے اور اس طرح انسانیت کا جزو نامکمل رہ جاتا ہے۔پس جب انسانیت مرد کا نام نہیں اور نہ انسانیت عورت کا نام ہے بلکہ مرد وعورت دونوں کے