فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 434

فضائل القرآن — Page 153

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 153 اسلام سے ناواقفیت کی وجہ سے حرام مال کو تو جائز قرار دے لیا اور جائز کو اپنے لئے حرام سمجھ لیا۔غرباء اور امراء دونوں کو صدقہ دینا چاہئے دسویں بات اسلام نے یہ بتائی ہے کہ صدقہ دے کون کیا امراء کو ہی صدقہ دینا چاہئے غرباء کو نہیں دینا چاہئے؟ اسلام کہتا ہے کہ صدقہ غرباء کو بھی دینا چاہئے کیونکہ صدقہ دینے کی صرف یہی غرض نہیں کہ حاجت مند کی امداد ہو بلکہ یہ ایک درس گاہ ہے جس میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اگر غریبوں کو صدقہ دینے سے محروم رکھا جائے تو وہ اس درس گاہ میں تعلیم پانے سے محروم رہ جائیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَاء وَالضَّرَّاء سے مومن وہ ہیں جو اس وقت بھی خرچ کرتے ہیں جب ان کے پاس مال ہوتا ہے اور اس وقت بھی خرچ کرتے ہیں جب آپ تنگی میں مبتلا ہوں۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلام نے غریب امیر سب کے لئے صدقہ مقرر کیا ہے تا کہ انہیں صدقہ دینے کے فوائد حاصل ہو جا ئیں۔صدقہ دینے کے کئی فوائد ہیں جن میں سے دو تین میں بیان کر دیتا ہوں۔اول ایسا انسان محسوس کرتا ہے کہ مجھ سے بھی زیادہ غریب اور محتاج لوگ دنیا میں موجود ہیں۔ایک ایسا شخص جسے خود ایک وقت کا فاقہ ہوا سے اگر کوئی چیز ملے اور وہ کہے میں کسے صدقہ دوں؟ تو خدا تعالیٰ اسے کہتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں کئی کئی وقت کا فاقہ ہو جاتا ہے۔اس لئے تم ایسے شخص کو صدقہ دے سکتے ہو جو کئی وقت کا بھوکا ہو۔دوم اسلام نہیں چاہتا کہ کسی ثواب سے کوئی بھی محروم رہے۔اس لئے صدقہ اس نے صرف امراء پر ہی نہیں بلکہ غرباء پر بھی رکھا ہے تا کہ وہ بھی اس ثواب سے محروم نہ رہیں اور پھر وہ شخص تو ثواب کا اور زیادہ مستحق ہوتا ہے جو نگی کی حالت میں دوسرے کی مدد کرتا ہے۔سوم خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ غریب کے دل پر زنگ لگے۔جو خود لیتا رہے لیکن دے نہیں اس کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے۔اس لئے اسلام نے کہا کہ وہ بھی دے تا کہ وہ یہ سمجھے کہ میں ہی دوسروں سے امداد حاصل نہیں کر رہا بلکہ میں بھی دوسروں کی مدد کرتا ہوں۔اس کے لئے اسلام نے ایک خاص موقع بھی رکھ دیا ہے۔یعنی رمضان کے بعد صدقۃ الفطر رکھا ہے جس سے کسی کو مستثنی نہیں