فضائل القرآن — Page 148
فصائل القرآن نمبر۔۔۔148 جائے گی کیونکہ گرے ہوئے افراد اس کے لئے بوجھ ہونگے اور قوم ترقی نہ کر سکے گی۔اسی لئے یورپین قومیں بھی جنہیں خدا سے کوئی تعلق نہیں محض اس لئے صدقہ و خیرات کرتی ہیں کہ قوم کے غرباء کی ترقی سے قوم بڑھتی اور ترقی کرتی ہے۔پس صدقہ کی ایک غرض اسلام نے یہ بتائی کہ تَثْبِيتًا منْ أَنفُسِهِم اس کے ذریعہ قوم مضبوط ہو جاتی ہے۔اسی طرح نیک لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَی الْمَالَ عَلَى حُبه یعنی نیک وہ ہوتا ہے جو علی محب مال دیتا رہے۔کتنے مختصر الفاظ ہیں لیکن ان میں نہایت وسیع مطالب بیان کئے گئے ہیں۔علی حبہ کے معنے یہ ہیں کہ اول اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے۔چنانچہ پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر موجود ہے۔گویا وہ مال دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور محبت کی خاطر۔انہیں اللہ تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے اس لئے وہ اس کی مخلوق سے بھی محبت کرتے ہیں۔ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ چونکہ ہم خدا تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اس لئے ہم بھی ان سے محبت کریں۔۲- محتہ کی ضمیر اس شخص کی طرف بھی جاتی ہے جسے مال دیا جاتا ہے۔اس لحاظ سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جسے مال دیتے ہیں اسے ذلیل سمجھ کر نہیں دیتے بلکہ اپنا بھائی سمجھ کر دیتے ہیں۔وہ مال دیتے تو دوسرے کو ہی ہیں لیکن اسے ذلیل سمجھ کر نہیں بلکہ اس کا حق سمجھ کر دیتے ہیں اسے اپنا بھائی اور اپنا پیارا سمجھ کر دیتے ہیں۔- محب کی ضمیر مال دینے کی طرف بھی جاتی ہے۔اس لحاظ سے یہ معنے ہوئے کہ وہ مال دینے کی محبت کی وجہ سے دیتے ہیں کیونکہ انہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں مال دینا انتہائی مرغوب ہوتا ہے۔وہ چھٹی سمجھ کر نہیں دیتے بلکہ اس لئے دیتے ہیں کہ انہیں مال دینے سے ایک روحانی سرور اور ذوق حاصل ہوتا ہے۔اس محبّہ کے متعلق دوسری جگہ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرنی سے کہہ کر بتایا کہ ان کی محبت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ماں باپ ہیں اور غریب اور محتاج لوگ ہمارے بچے ہیں۔جیسے ماں اپنے بچہ کو محبت سے دودھ پلاتی ہے نہ کہ کسی طمع سے اسی طرح یہ لوگ محتاجوں کو اپنا مال دیتے ہیں۔دودھ کیا ہوتا ہے ماں کا خون ہوتا ہے۔مگر پھر بھی جن عورتوں کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا وہ کڑھتی رہتی ہیں جس