فضائل القرآن — Page 124
فصائل القرآن نمبر۔۔۔124 لوگ پیش کر سکتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کی طرح قربانیاں کیں۔جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے صداقت نہ چھوڑی اور صلیب پر چڑھنا گوارا کر لیا۔اسی طرح ہماری جماعت کے پانچ آدمیوں نے کابل میں صداقت کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں جیسے افراد پیدا نہیں کئے بلکہ ایسے افراد پیدا کئے جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام جیسی قربانی کے نظارے دکھائے۔احمدیت کا پیغام ابھی تک ساری دنیا میں نہیں پہنچا پانچواں سوال یہ کیا گیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے بعد خلیفہ اول کا زمانہ بھی گذر گیا۔اب خلیفہ دوم کا زمانہ ہے مگر ابھی تک ساری دنیا میں مرزا صاحب کا نام نہیں پہنچا لیکن گاندھی جی کا پہنچ گیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ نام پھیلنے میں حقیقی عظمت نہیں ہوتی۔مشہور ہے کہ کسی شخص نے چاہ زمزم میں پیشاب کر دیا۔لوگوں نے اسے پکڑ کر خوب مارا۔اس نے کہا خواہ کچھ کرو میری جو غرض تھی وہ پوری ہو گئی ہے۔اس سے جب پوچھا گیا کہ تمہاری کیا غرض تھی ؟ تو اس نے کہا۔مجھے شہرت کی خواہش تھی۔یہاں چونکہ ساری دنیا کے لوگ آئے ہوئے تھے اس لئے جب میری اس حرکت کا علم سب کو ہوگا توخواہ مجھے گالیاں دیں لیکن جہاں جہاں بھی جائیں گے اس بات کا ذکر کریں گے اور اس طرح ساری دنیا میں میری شہرت ہو جائے گی۔غرض نام اس طرح بھی پھیل جاتا ہے لیکن حقیقی نام وہ ہوتا ہے جو دنیا کی مخالفت کے باوجود پیدا کیا جائے۔گاندھی جی نے کھڑے ہو کر کیا کہا ؟ وہی جو ہر ہندوستانی کہتا تھا۔قدرتی طور پر ہر ہندوستانی یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کا ملک آزاد ہو۔یہی گاندھی جی نے کہا لیکن حضرت مرزا صاحب وہ منوانا چاہتے تھے جسے دنیا چھوڑ چکی تھی اور جس کا نام بھی لینا نہیں چاہتی تھی۔گاندھی جی کی مثال تو اس تیراک کی سی ہے جو ادھر ہی تیرتا جائے جدھر دریا کا بہاؤ ہو لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال اس تیراک کی سی ہے جو دریا کے بہاؤ کے مخالف تیر رہا ہو۔اس وجہ سے آپ کا ایک میل تیرنا بھی بہاؤ کی طرف پچاس میل تیرنے والے سے بڑھ کر