فضائل القرآن — Page 114
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 114 الگ الگ خدا سمجھتے تھے۔ہندو کہتے تھے کہ ہمارا خدا ایسا ہے، یہود کہتے تھے ہمارا خدا ایسا ہے، پاری کہتے تھے کہ ہمارا خدا ایسا ہے۔پھر بعض لوگوں نے کہا کہ چلو سب کے خداؤں کو پو جوتا کہ سب سے فائدہ حاصل ہو۔اس طرح شرک پیدا ہو گیا۔مگر اسلام نے بتایا کہ مومن اور کا فرسب کا خدا ایک ہی ہے۔اور اسلام کسی خاص قوم کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُبرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ یعنی اسلام کا چراغ ایک ایسے برکت والے تیل سے جلایا جارہا ہے جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی۔ہر قوم اور ہر زمانہ کے لئے ہے۔سب کے لئے اس میں ترقیات کے دروازے کھلے ہیں۔اس طرح اسلام نے قومیت کے امتیاز کو مٹا دیا اور بڑائی کا معیار یہ رکھا کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتَّقُكُمْ کے اسلام میں بڑائی کا معیار صرف تقویٰ ہے۔خواہ کوئی کیسی ہی ادنیٰ قوم کا فرد ہوا گر وہ متقی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ہے۔پس اسلام نے ذات پات کو مٹادیا اور مختلف مذاہب کے نتیجہ میں جو تفرقے پیدا ہوتے تھے، ان کو دور کر دیا۔دوستوں کو چاہئے کہ قرآن کریم کو اپنا دستور العمل بنا ئیں میں نے فضیلت قرآن کی ۲۶ وجوہات میں سے اس وقت صرف چھ کا ذکر کیا ہے اور ان کی بھی ایک ایک مثال دی ہے۔خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو باقیوں کے متعلق پھر بحث کرونگا۔فی الحال اسی پر بس کرتا ہوں۔اور دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسی افضل اور بے نظیر کتاب پر عمل کرنے اور اس کے احکام کو حرز جان بنانے کی کوشش کرو۔اس وقت میں قرآن کریم کے جن مطالب کو واضح کر سکا ہوں ان کے مقابلہ میں اور کوئی کتاب ایسے مطالب پیش نہیں کر سکتی۔دوستوں کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی اس کتاب کی طرف خاص طور پر توجہ کریں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اگر کسی انسان کے پاس بہتر سے بہتر چیز ہو لیکن وہ استعمال نہ کرے تو اسے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔کنواں موجود ہو لیکن ہم پانی نہ پیئیں تو کس طرح پیاس بجھ سکتی ہے۔پس یہ اعلیٰ درجہ کی کتاب جو تمہارے پاس موجود ہے یہ اسی صورت میں مفید ہو سکتی ہے جب کہ تم اس سے فائدہ اُٹھاؤ۔پس اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو۔اور ہر معاملہ میں قرآن کریم کی