فضائل القرآن — Page 341
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 341 ہیں بلکہ یہ قو میں محض جاننے اور پہچاننے کے لئے بنائی گئی ہیں تاکہ تم میں امتیاز قائم رہے۔ورنہ تم میں اگر کوئی معزز ہے تو وہی جو تقویٰ میں بڑھا ہوا ہے اور اللہ یقینا بہت علم رکھنے والا اور جاننے والا ہے۔اُسے معلوم ہے کہ کون تقوی سے کام لے رہا ہے اور کون تکبر اور تفاخر کی راہ اختیار کر رہا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمدنی برتری کی وجہ سے دوسروں کو حقیر قرار دینا نا جائز قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ اصل فضیلت تقویٰ میں ہے۔ذات پات اور قومیت کی قیود میں نہیں۔پھر سیاسی برتری کو بھی اُس نے رڈ کیا اور فرمایا۔اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَابِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِ نِسَاءَهُمْ ، إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ۔۲۳ یعنی فرعون نے اپنے ملک میں بڑی تعلی سے کام لیا اور اُس کے رہنے والوں کو اُس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔وہ بعض کو کہتا کہ یہ حاکم قوم کے لوگ ہیں اور دوسروں کے متعلق کہتا کہ وہ محکوم قوم کے لوگ ہیں۔اُس نے بہت بڑے تکبر سے کام لیا اور وہ مفسدین میں سے تھا۔ہم نے اس قسم کا کوئی قانون نہیں بنایا کہ کوئی قوم ہمیشہ کے لئے حاکم ہو اور کوئی قوم ہمیشہ کے لئے محکوم ہو۔جیسے انگریز ہیں ویسے ہی دوسرے لوگ ہیں۔انگریزوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ کہیں ہم ہمیشہ کے لئے حاکم ہیں اور دوسرے ہمیشہ کے لئے محکوم ہیں۔آٹھویں اصولی اصلاح اللہ تعالیٰ کی صفت حکیم کے متعلق آٹھویں اصولی اصلاح قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی صفت حکیم کے متعلق کی۔قرآن کریم سے پہلے قریبا ہر مذہب میں یہ احساس ہورہا تھا کہ گویا اس دنیا کی پیدائش کا کوئی مقصد ہی نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندو سکتی کے قائل تھے۔بدھ نروانا کے قائل تھے۔یہود حکومتوں اور بادشاہتوں کے ملنے کے۔نصاریٰ موت سے نجات اور امن کے۔زرتشتی جنت کے مگر باوجود اس کے ان میں سے ایک چیز بھی ایسی نہیں جسے دنیا کی پیدائش کا مقصد کہا جا سکے۔سب محدود مقاصد ہیں جو پیدائش کی حقیقت کو نہیں کھولتے۔قرآن کریم نے اس سوال کو بھی حل کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ پیدائش عالم کا مقصد یہ ہے کہ انسان جو عالم صغیر ہے عرفانِ الہی کو حاصل کرے جسے دوسرے لفظوں میں لقا بھی کہتے ہیں کیونکہ جب کوئی چیز اپنے اندر ہوتی ہے تبھی انسان اُسے پہچان سکتا ہے