حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ — Page 9
خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہراء چکی تھی۔بعض صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت فاطمہ سے شادی کی درخواست کی۔مگر آپ مے خاموش رہے۔اس پر حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاص نے مشورہ کیا کہ حضرت فاطمہ کے لئے حضرت علی کو پیغام بھیجنے کی ترغیب دی جائے۔حضرت علی آپ کے چچا زاد بھائی بھی تھے۔(9) چنانچہ یہ اصحاب حضرت علی سے ملے اور اُنہیں پیغام بھجوانے پر رضامند کر لیا۔حقیقت میں یہ حضرت علیؓ کے دل کی بھی آواز تھی مگر فطری حیاء کی بناء پر خاموش تھے۔بہر حال حضرت علیؓ نے رسول اللہ علہ سے درخواست کی۔آپ اللہ نے ہاں میں جواب دینے سے پہلے حضرت فاطمہ کی مرضی دریافت کی۔وہ چپ رہیں۔یہ ایک طرح کا اظہار رضامندی تھا اس پر رسول اللہ اللہ نے حضرت علی سے پوچھا کہ تمہارے پاس مہر میں دینے کے لئے کیا ہے؟ بولے ، کچھ نہیں ! اس پر حضور ﷺ نے فرمایا وہ زرہ کیا ہوئی جو جنگ بدر میں آپ کو ملی تھی ؟ عرض کی، وہ تو موجود ہے آپ علی نے فرمایا ، بس وہ کافی ہے۔چنانچہ حضرت علیؓ نے حضرت عثمان کے ہاتھ وہ زرہ چار سواسی درہم میں فروخت کر دی (10) صلى الله حضرت عثمان نے بعد میں وہ زرہ حضرت علی کو بطور تحفہ واپس کر دی۔زمانہ نکاح کے متعلق روایتوں میں اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک