حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ — Page 3
خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہراء 3 ذہین بھی تھیں۔اپنی والدہ سے اکثر ایسے سوال کرتیں جن سے اُن کی بے پناہ ذہانت کا اندازہ ہوتا تھا۔ایک مرتبہ والدہ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ جس نے ہمیں اور دنیا کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے کیا وہ ہمیں نظر آ سکتا ہے؟ اس پر حضرت خدیجہ نے فرمایا کہ اے میری بچی اگر ہم دنیا میں اللہ تعالی کی عبادت کریں اور اس کی مخلوق سے محبت کریں تو قیامت کے دن ہم ضرور اللہ کی زیارت کریں گے۔“ صلى الله حضرت فاطمہ پچپن ہی سے نمود و نمائش سے نفرت اور سادگی پسند فرماتی تھیں۔ایک مرتبہ کسی عزیز کی شادی میں شرکت کے لئے حضرت خدیجہ نے ان کے لئے عمدہ کپڑے اور زیورات بنوائے جو انہوں نے پہننے سے انکار کر دیا اور سادہ لباس میں ہی شادی میں شرکت کی۔(3) بعثت نبوی میلے کے چوتھے سال سے اعلانیہ تبلیغ کا آغاز ہو چکا تھا اور کفار مکہ "جو آپ علیہ کی عظمتِ کردار کے معترف تھے اب جانی دشمن بن چکے تھے ، وہ مسلمانوں اور خود حضور ﷺ کی ذات بابرکات کو ہر ظلم وستم کا نشانہ بنا رہے تھے۔ایک مرتبہ حضور ﷺ خانہ کعبہ میں نماز ادا کر رہے تھے کہ کفار کے ایک گروہ نے جس کا سرغنہ عقبہ بن ابی معیط تھا اونٹ کی اوجھڑی لا کر سجدہ کی حالت میں حضور ﷺ کی گردن مبارک پر ڈال دی۔کسی نے حضرت فاطمۃ الزہراء کو خبر کر دی۔وہ دوڑتی ہوئی کعبہ