حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ

by Other Authors

Page 7 of 29

حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ — Page 7

خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہراء 7 بہنوں کو بے حد غم زدہ کر دیا۔جب اُم المومنین سیدہ خدیجہ الکبری کا انتقال ہوا تو اس وقت حضرت فاطمہ کی عمر تقریبا پندرہ سال تھی۔چھوٹی ہونے کی وجہ سے حضرت فاطمہ اپنی والدہ کے زیادہ قریب اور لاڈلی تھیں چنانچہ قدرتی طور پر ماں کی جدائی کا ان پر زیادہ اثر تھا۔حضرت خدیجہ اور حضرت ابو طالب کی وفات کے بعد کفارِ مکہ کے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا۔چنانچہ اہل مکہ سے مایوس ہو کر آنحضرت ﷺ نے تبلیغ اسلام کے لئے طائف کا سفر کیا، لیکن بد قسمتی سے وہاں کے لوگوں کو حق پہچاننے کی توفیق نہ ہوئی۔جب رسول اقدس ہے طائف سے زخمی حالت میں مکہ آئے تو لاڈلی بیٹیاں سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ رونے لگیں ، آپ ﷺ نے فرمایا:۔بیٹا گھبراؤ نہیں! اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرے گا اور اپنے نبی کو غالب کرے گاتنگی کے بعد آسانی کے دن آنے والے ہیں۔(7) علوم طائف کے سفر سے واپسی پر رسول خداﷺ نے مدینہ منورہ سے حج کے لئے آئے ہوئے قبائل کو اسلام کی تبلیغ کی۔قبیلہ خزرج کے چھ آدمیوں نے آقائے نامدار علیہ کی دعوت قبول کر لی اور اسلام لے آئے ، اُن کی کوششوں سے مدینہ منورہ میں گھر گھر اسلام کا چرچا ہونے