حضرت فاطمہ ؓ بنتِ اسد — Page 10
حضرت فاطمہ بنت اسد 10 میں بے شک اُن کا اپنا بیٹا مارا جائے۔یہ تھا ضعیف ابو طالب اور بوڑھی فاطمہ کی ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی علیہ سے محبت اور وفا کا اظہار۔الله بچو! ذکر ہو رہا تھا شعب ابی طالب میں کٹنے والے سخت ترین تین سالوں کا ، جن میں ہماری پیاری حضرت فاطمہ بنت اسد بھی سب کے ساتھ بہت حوصلے کے ساتھ شریک رہیں۔اور جب یہاں سے رہائی ملی تو حضرت ابو طالب کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی اور آپ نے 10 نبوی میں وفات پائی۔اور آپ کو اپنے پیارے شوہر کی جُدائی دیکھنی پڑی۔لیکن ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی عملے نے اپنی محسنہ چچی کا بہت خیال رکھا۔اور جب آپ ﷺ نے 13 نبوی میں خود ہجرت کی تو پہلے قافلے میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ آپ نے مدینہ ہجرت کر لی۔(9) حضرت فاطمہ بنت اسد کو ایک اور بڑا اعزاز اس وقت ملا جب آپ کے پیارے بیٹے حضرت علی مرتضیٰ کی شادی آنحضرت ﷺ کی بے حد پیاری بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراء سے ہجرت کے دوسال بعد ہوئی۔اپنی اس شادی کے موقع پر حضرت علی نے ایک بہت پیاری بات اپنی والدہ سے کہی جو آج بھی تاریخ میں محفوظ ہے اور ہم سب کے لئے نمونہ ہے۔آپ نے فرمایا:۔صلى الله