حضرت فاطمہ ؓ بنتِ اسد — Page 9
حضرت فاطمہ بنت اسد 9 صلى الله کے دعوی نبوت کو سات سال ہونے لگے اور دشمنوں نے محسوس کیا کہ اب تو حد ہو گئی ہے یہ ہماری سختیوں اور ظلم کے باوجود تعداد میں بڑھ رہے ہیں تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ جب تک بنو ہاشم قتل کر کے آنحضرت علی کو ہمارے حوالے نہ کریں گے تب تک کوئی شخص اُن سے تعلق نہ رکھے گا۔نہ ان کے پاس کوئی چیز فروخت کی جائے گی اور نہ ہی رشتے کئے جائیں گے وغیرہ اور یہ سب کچھ لکھ کر اپنے اپنے دستخط کر کے یا انگوٹھے کے نشان لگا کر خانہ کعبہ کے دروازے پر لٹکا دیا۔جب اس واقعہ کا علم حضرت ابو طالب کو ہوا تو وہ خاندان بنو ہاشم اور اُن کے بھائی حضرت مطلب کی اولاد کو ساتھ لے کر اپنے خاندانی درہ یا ( گھائی) جس کو شعب ابی طالب کہتے تھے۔وہاں پر آنحضرت عﷺ اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہے۔حضرت فاطمہ نے بھی اُن تکالیف کو با وجود بڑی عمر کے صبر اور حوصلے کے ساتھ برا دشت کیا۔اور کسی قسم کی پریشانی اور گھبراہٹ کا اظہار نہ کیا۔الله ان تین سالوں میں حضرت ابو طالب کو آنحضرت ﷺ کی حفاظت کا بہت خیال رہتا تھا اور آپ اکثر آنحضرت ﷺ کے بستر پر اپنے کسی بیٹے یا کسی اور رشتہ دار کو سلا دیتے۔تا کہ خدانخواستہ اگر کبھی دشمن حملہ کرے تو آپ مے کو کوئی نقصان نہ پہنچے بلکہ اس کے بدلے