حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب — Page 8
حضرت فاطمہ بنت خطاب 8 سب کو احمق قرار دے کر ہمارے بتوں کو بُرا کہا ہے اور ہمارے دین میں کیڑے ڈالے ہیں۔اس پر حضرت نعیم نے کہا ”عمر یہ بڑا خطرناک کام ہے تم سخت غلط فہمی میں ہو۔خدا کی قسم اگر تم محمد الے کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو کیا عبد مناف تمہیں زمین پر چلنے پھرنے کے لئے زندہ چھوڑیں گے ؟ عمر نے کہا : " مجھے کسی کا ڈر نہیں مگر مجھے تو لگتا ہے نعیم تم نے بھی صلى الله اپنا آبائی دین چھوڑ دیا ہے اور محمد ﷺ کا دین اختیار کر لیا ہے۔کیوں نہ تمہاری خبر پہلے لے لوں۔“ یہ سنتے ہی حضرت نعیم نے عمر سے کہا میری خبر لینے سے پہلے اپنی بہن اور بہنوئی کی فکر کرو۔فاطمہ اور سعید دونوں مسلمان ہو چکے ہیں میری نسبت تم پر اُن کا زیادہ حق ہے نعیم بن عبد اللہ کی اس جرات اور بے با کی پر عمر شدید غصے میں آگئے۔سید ھے بہن کے گھر پہنچے۔دروازہ بند تھا، اندر حضرت خباب بن الارت ہاتھ میں ایک صحیفہ لئے انہیں قرآن کریم کی تعلیم دے رہے تھے۔عمر نے ان کی آواز سن لی اور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا ، حضرت فاطمہ سمجھ گئیں کہ یہ عمر ہیں؟ انہوں نے حضرت خباب بن الارث کو گھر کے پچھلے حصہ میں دھکیل دیا اور قرآن پاک کے صفحات کو