حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب — Page 12
حضرت فاطمہ بنت خطاب 12 کے قافلے میں شامل ہوئیں اور حضرت ابولبابہ انصاری کے گھر قیام کیا۔مدینہ منورہ میں حضرت فاطمہ بنت خطاب اسلامی معرکوں میں شریک ہونے لگیں اور اسلام کے قلعے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے لگیں۔حضرت فاطمہ نے بہت سی احادیث بیان کیں۔حضرت فاطمہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ میری اُمت اس وقت تک خیر و برکت میں رہے گی جب تک ان میں دنیا کی محبت غالب نہیں آئے گی۔علماء، اللہ کے نافرمان اور قراء ( قرآن مجید پڑھنے والے ) جاہل اور ظالم نہ بن جائیں۔اگر دنیا اور فسق و فجوران میں غالب آگیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے۔(3) حضرت فاطمہ نے اپنے بھائی حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں وفات پائی۔اُمّ جمیل، حضرت فاطمہ بنت خطاب علم وفضل کے لحاظ سے بڑے بلند مرتبہ پر فائز تھیں۔وہ نہایت عقل مند تھیں ، نیک کاموں میں پیش پیش رہتی تھیں ،شر سے کراہت کرتی تھیں، نیکی کا حکم دیتیں اور برائیوں سے روکتی تھیں۔(4) بے شک فاطمہ بنت خطاب کا شمار ایسی قابل فخر ہستیوں میں ہوتا ہے جن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔