حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب — Page 7
حضرت فاطمہ بنت خطاب بطور انعام سوسرخ اونٹ اور چالیس ہزار درہم نقد دینے کا اعلان کیا۔عمر بھی اس مجمع کے شرکاء میں سے تھے۔انعام کا لائی تو نہ تھا، البتہ اپنے زور بازو پر بڑا ناز تھا ! اسی وجہ سے جوش میں آئے اور سب کے سامنے با آواز بلند کہا:۔لات و عری کی قسم جب تک محمد (ﷺ) کو قتل نہ کرلوں گا زمین پر نہ بیٹھوں گا۔“ صلى الله حضرت حمزہ کے قبولِ اسلام کے بعد سرکار دو عالم محمد ﷺ کے دل میں شدت سے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ خدا قریش کے دوستونوں عمر و بن ہشام ( ابو جہل ) اور عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کو دولت ایمان سے سرفراز فرمائے۔آپ علی کی اسی دعا کا اثر تھا کہ اللہ نے عمر بن خطاب کو اسلام کا دست و باز و بنانے کے لئے چن لیا۔اس دعا کے دوسرے دن ہی حضرت عمر حضور ﷺ کو نعوذ باللہ) قتل کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلے۔حضرت نعیم بن عبد اللہ (جو اس وقت خفیہ طور پر اسلام قبول کر چکے تھے ) نے عمر کو ہاتھ میں تلوار اُٹھائے دیکھا تو پوچھا عمر ! کہاں کا ارادہ ہے؟ جواب دیا، آج میں اس شخص کو قتل کرنے جارہا ہوں جس نے نبی ہونے کا دعوی کر کے قریش کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ہے۔یہی نہیں بلکہ ہم