فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 10
-r خود تعلی کرتے ہوئے یہ بڑہانکی تھی ؟ اول صورت میں تو واضح ہے کہ خدا تعالی کی طرف سے خبر پا کر انہوں نے یہ بات نہیں کی تھی کیونکہ ان کی بات کا حرف حرف قطعی طور پر جھوٹا نکلا۔جماعت احمد یہ بھی خدا تعالی کی تائید کے دوش پر ہر ملک اور ہر دیار میں ترقی کر رہی ہے اور اس کے امام حضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ الودود کی عزت و مکرمت کو خدا تعالی روز افزوں بڑھا رہا ہے۔لہذا دوسری صورت ہی حتمی اور قطعی ہے کہ مولوی صاحب نے اپنی طرف سے تعلی کرتے ہوئے حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی موت کی پیشگوئی کی تھی کہ وہ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء تک ختم ہو جائیں گے پس اول تو ایسی من گھڑت پیشگوئی کرنا ہی پیشگوئی کرنے والے - کے افتراء کا ثبوت ہے اور پھر اس تعلی کا عملاً جھوٹا ثابت ہو جانا اور واقعات کا کلیتہ اس کے برخلاف رونما ہو جانا اس کے قطعی طور پر کذاب ہونے کی دلیل ہے۔۔ان کے علاوہ جو تیسری بات ان کے اس بیان سے ثابت ہوتی ہے یہ ہے کہ انہوں نے حضرت امام جماعت احمدیہ کی ۱۵ ستمبر تک موت کا اعلان کر کے صاف طور پر مباہلہ میں اپنے فریق ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ان کے اعلان کی طرز ہی فریقین میں مباہلہ کے SET ہو جانے کی کھلی کھلی دلیل ہے جس سے مولوی صاحب کیلئے نہ انکار ممکن ہے نہ گریز۔پس منظر کے اس مختصر بیان کے بعد حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے اس اعلان کو ایک بار پھر تو جہ سے دیکھئے ! آپ نے فرمایا :- " یہ اعلان ہے جو میں آپ کے سامنے کر رہا ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے خدا کی خدائی میں یہ بات ممکن نہیں ہے کہ منظور چنیوٹی سچا ثابت ہو اور میں جھوٹا نکلوں۔منظور چنیوٹی جن خیالات اور عقائد کا قائل ہے وہ بچے ثابت ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو عقائد ہمیں عطا فرمائے ہیں آپ اور میں جن کے علمبردار ہیں یہ عقائد جھوٹے ثابت ہوں۔۔۔۔۔یہ شخص بڑی شوخیاں دکھاتا رہا اور جگہ جگہ بھاگتا رہا۔اب اس کے فرار کی کوئی راہ اس کے کام نہیں آئے گی اور خدا کی