"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 71 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 71

کہ (قیامت کے روز) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح ایک ہی قبر سے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہا کی قبروں کے درمیان میں سے اٹھیں گے۔اب دیکھئے کہ الفاظ کے نتیج اور ظاہر پرستی نے چشتی صاحب اور ان کی قبیل کے لوگوں کو قیامت تک انتظار کی مصیبت میں ڈال دیا اور ایمان پھر بھی نصیب نہ ہوا اور تاقیامت بے ایمان ہی رہے حالانکہ۔ہمارے آقا و مولی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ مدعا نہیں تھا۔آپ نے تو آنے والے مسیح اور مہدی کو لا المهدی الا عیسی کہہ کر کہ نہیں مہدی سوائے عیسی کے ) ایک وجود قرار دیا (ابن ماجه - کتاب الفتن باب شدة الزمان ) اور اس کی آمد کی ایسی نشانیاں بیان فرمائیں کہ چشم بصیرت اس کو شام کے دھندلکوں میں تو کجا رات کی تہ در تہ تاریکیوں میں بھی پہچان لے جس طرح کوئی سفید روشن مینارہ دور ہی سے نظر آ جائے جیسا کہ حدیث نبوی میں آتا ہے کہ ينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق (مشكوة - باب العلامات بين يدى الساعة وذكر الدجال) که مسیح موعود د مشق کے شرقی جانب سفید مینارہ کے پاس نازل ہو گا۔اس حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ منارہ کے اوپر سے اترے گا بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ منارہ کے پاس اترے گا۔یعنی وہ ایسی حالت میں اترے گا کہ سفید منارہ اس کے پاس ہو گا۔پس جاننا چاہئے کہ قادیان صوبہ پنجاب ملک ہند جو حضرت مرزا صاحب کا وطن ہے۔ٹھیک دمشق کے مشرق میں واقع ہے یعنی وہ دمشق کے عین مشرق کی طرف اسی عرض بلد میں واقع ہے جس میں دمشق ہے پس دمشق کے مشرق والی بات میں تو کوئی اشکال نہ ہوا۔اب رہا منارہ کا لفظ۔سو اس سے مراد یہ ہے کہ مسیح موعود کا نزول ایسے زمانہ میں ہو گا کہ اس وقت وسائل رسل و رسائل اور میل جول کی کثرت یعنی انتظام ریل و جهاز و ڈاک و تار و مطبع وغیرہ کی وجہ سے تبلیغ و اشاعت کا کام ایسا آسان ہو گا کہ گویا یہ شخص ایک منارہ پر کھڑا ہے اور یہ کہ اس کی آواز دور دور تک پہنچے گی۔اور اس کی روشنی جلد جلد دنیا میں پھیل جائے گی جیسا کہ منارہ کی خاصیت ہے۔گویا کہ مراد یہ نہیں ہے کہ مسیح موعود کا نزول منارہ کے اوپر سے ہو گا بلکہ مراد یہ ہے کہ مسیح موعود اس حالت میں مبعوث ہو گا کہ سفید