"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 22
پیر صاحب کی گولڑہ کو واپسی پیر مہر علی شاہ صاحب کا ارادہ ابتداء کیکم ستمبر بروز جمعہ تک لاہور میں قیام کرنے کا تھا۔لیکن انہوں نے سوچا جمعہ کے دن پھر تقریر کے مطالبہ کی بوچھاڑ ہو گی اور ان کا رہا سہا وقار بھی خاک میں مل جائے گا لہذا وہ قیام لاہور کا مزید پروگرام منسوخ کر کے جمعہ سے قبل ہی چل دیئے اور جاتے ہوئے اپنے مریدوں کو وصیت فرما گئے کہ مرزا صاحب اور ان کی جماعت کی کتابیں اور اشتہارات ہرگز نہ پڑھیں ورنہ گمراہ ہو جائیں گے۔چنانچہ جب حضرت اقدس کا یہ آخری اشتہار لاہور میں پہنچا تو وہ گولڑہ تشریف لے جاچکے تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب ، منشی تاج الدین صاحب سیکرٹری انجمن فرقانیہ اور حضرت اقدس کے دوسرے خدام نے مل کر انہیں فورا یہ اشتہار رجسٹری بھجوا دیا اور انہیں لکھا: چونکہ آپ خلاف توقع جمعہ سے قبل ہی لاہور سے روانہ ہو گئے تھے۔اس لئے اسے رجڑی کر کے آپ کی خدمت میں بھجوا رہے ہیں۔احتیاطاً دو اشتہار آپ کے مریدان باصفا کو بھی دیئے جا رہے ہیں کہ پیش خدمت کر دیں۔نیز لکھا کہ اشتہار میں حضرت مرزا صاحب کی طرف سے رؤساء سے دستخط کروانے کی پانچ یوم کی مہلت میں مزید دس روز کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔آپ اس عرصہ میں مذکورہ رؤساء سے دستخط کرا کے بھیج دیں۔علاوہ ازیں انہیں یہ پیشکش بھی کی کہ اگر آپ اس مقابلہ میں تشریف دیں گے تو آپ کو کرایہ ریل سیکنڈ کلاس اور آپ کے دو خادموں کا کرایہ انٹر میڈیٹ کلاں آمد و رفت کا ہم نذر کریں گے۔امید ہے کہ آپ حق کے فیصلہ کے واسطے بہت جلد اس کا احسن انتظام کر کے لاہور میں تشریف لاویں گے۔" واقعات صحیح - صفحہ (۶۲۶) پیر صاحب موصوف نے اس دفعہ بھی رجسڑی لینے سے صاف انکار کمر اور اس طرح سفر و قیام کے اخراجات کی پیشکش کے باوجود نہ ان کو اور نہ ان کے ہم مشرب کا سرام کو حضرت اقدس کے مطالبہ کی تکمیل میں وہ حدیث پیش کرنے کی جرات ہو سکی جس میں حضرت مسیح کے مجسدِ