"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 66 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 66

۲۶ کے لئے بطور آئینہ کے پیش کر رہے ہیں۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیوں اور آپ کی ازواج مطہرات کے متعلق انتہائی دریدہ دھنی دکھائی ہے تاکہ مولوی چشتی صاحب اس آئینہ میں اپنی شکل بھی دیکھ لے۔پس آج ایک مولوی اگر خدا کے پاک مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مذکورہ بالا پادریوں جیسی تحریریں چھوڑتا ہے تو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ مقدس و مطر ذاتوں پر اس قسم کی زہر آگیں زبان دراز کرنے والا کس زمرہ میں آتا ہے۔پس دراصل یہ زہر تو وہی پرانا زہر ہے جو نئی کچلیوں سے نکل رہا ہے۔جہاں تک مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی بتزوج و بولدلہ کا تعلق ہے کہ وہ شادی کرے گا اور اس کے ہاں اولاد ہو گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہ شادی خدا تعالٰی کے خاص حکم سے اور اس کی خاص تقدیر کے تحت کر چکے تھے اور اس سے وہ موعود اولاد بھی عطا ہو گئی تھی جس کا بو لالہ میں ذکر ہے۔اس کے بعد یہ چشتی صاحب کی انتہائی بددیانتی ہے کہ محمدی بیگم والی پیشگوئی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی بتزوج و یولدلہ کو پورا کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔محمدی بیگم والی پیشگوئی ایک انداری پیشگوئی تھی اور مشروط تھی جو ایک خاص مقصد کے لئے خدا تعالی کی وحی کے تحت کی گئی تھی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی خواہش کا کوئی دخل نہ تھا اور نہ ہی آپ کو اور شادی کی ضرورت تھی کیونکہ موعود اولاد خدا تعالی نے آپ کو عطا کر دی تھی۔اور پھر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ : تکفیک هذه الإمراة تذكره صفحه ۸۳۰) کہ تیرے لئے ہی بیوی کافی ہے (جس سے موعود اولاد خدا تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی)۔اس تفصیلی پیشگوئی میں محمدی بیگم سے شادی صرف ایک جزو کی حیثیت رکھتی تھی جو کہ اس پیشگوئی کے بنیادی اجزاء کے ساتھ مشروط تھی۔چنانچہ جب اس پیشگوئی کے بعض انداری اجزاء پورے ہوئے اور محمدی بیگم کا والد احمد بیگ مدت مقررہ کے اندر مر گیا تو اس خاندان پر ایک زبردست ہیبت طاری ہوئی اور انہوں نے خدا تعالی کی طرف رجوع کیا اور اپنے مشرکانہ خیالات اور خدا تعالی اور اس کے پاک نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیوں سے توبہ کر