"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 95 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 95

iv - گناہگاروں سے مسجد کے لئے رقم لے کر جنت کی ضمانت دیتے رہے۔V۔یہ وہی ہتھکنڈا تھا جس سے عیسائی دنیا میں پادری زمانہ قدیم میں پیروکار کے چولہے کا ایندھن اور ہنڈیا کی چکنائی تک نہ چھوڑتے تھے۔اور ہندوؤں کے پنڈت بھی کل تک اپنے ماننے والوں کی دلہنوں کے زیور نوچ لیا کرتے تھے۔(۲) ماهنامه بازگشت ناروے کے جون 1999ء کے شمارے میں آپ کی دیگر مالی بدعنوانیوں کے علاوہ حسب ذیل خوفناک حقائق کو بھی ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا گیا جو ہمیشہ آپ کی ذلت و نکبت کی گواہی دیں گے۔رمضان المبارک میں دو بار نماز جمعہ اور ایک بار نماز تراویح کے دوران مسجد اور امام کی بے حرمتی کی گئی۔- عید الفطر کے موقع پر جب کہ امام اور لگ بھگ ڈیڑھ ہزار مسلمان خدا کے حضور نیست باندھ کر کھڑے ہو چکے تھے جھگڑا کھڑا کیا گیا۔نماز تڑوائی گئی۔ایسی ذلت کسی پادری کی بھی شاید نہ ہوئی ہو۔(۳) پھر اسی ماهنامه بازگشت اوسلو نے اپنی اگست 1990ء کی اشاعت کے صفحہ ا تا صفحہ ۱۷ میں آپ پر متعدد رذیل قسم کے الزامات ثابت کئے اور آپ کو حسب ذیل افعال شنیعہ مثلاً: ہیرا پھیری کرنے والا۔منبر رسول کا غلط استعمال کرنے والا۔مسجد کے تقدس کو پامال کرنے والا۔لالچی۔اپنے خاندان کو ناروے میں سیٹ کرنا۔۔منہ مانگی مراعات حاصل کرنا۔مرضی کے ملازم رکھنا۔اپنی مرضی کی بے تکی تنظیمیں بنانا۔جھوٹے وعدے کرنا۔کئی کورس شروع کئے مگر کوئی بھی مکمل نہ کیا۔حساب میں خرد برد کرنے والا۔اپنا فلیٹ کرائے پر دے رکھنا۔اور مسجد کی رہائش پر قابض ہو جانا۔- خدا اور اس کے رسول کے نام پر اکٹھا کیا ہوا مال ہضم کرنا۔اپنے آدمیوں کو ناروے سیٹ کرنے کے لئے سودا بازی اور ہیرا پھیری کرنے والا قرار دیا۔(۴) ماہنامہ قائد اوسلو اپنے شمارہ نمبر ۸ اگست 1990ء میں لکھتا ہے۔- مولوی ثواب کے نام پر سب کچھ کرتا رہا۔- ن لوگوں کی جیبیں خالی کرتا رہا۔