"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 75
ها آگے شہر ہو اور وہ پانچ وقت اس نہر میں غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر میل رہ سکتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں تب آپ نے فرمایا کہ اسی طرح جو شخص پانچ وقت نماز پڑھتا ہے ( جو جامع توبہ اور استغفار اور دعا اور تفریح اور نیاز اور تحمید اور تسبیح ہے) اس کے نفس پر بھی گناہوں کی میل نہیں رہ سکتی گویا وہ پانچ وقت غسل کرتا ہے۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ مسیح موعود کے غسل کے بھی یہی معنے ہیں ورنہ جسمانی غسل میں کونسی کوئی خاص خوبی ہے۔اس طرح تو ہندو بھی ہر روز صبح کو غسل کرتے ہیں اور غسل کے قطرے بھی ٹپکتے ہیں۔افسوس کہ جسمانی خیال کے آدمی ہر ایک روحانی امر کو جسمانی امور کی طرف ہی کھینچ کر لے جاتے ہیں اور یہود کی طرح اسرار اور حقائق سے نا آشنا ہیں۔اور یہ امر کہ مسیح موعود د قبال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔یعنی دجال بھی خانہ کعبہ کا طواف کرے گا اور مسیح موعود بھی۔اس کے معنی خود ظاہر ہیں کہ اس طواف سے ظاہری طواف مراد نہیں ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ دجال خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے گا یا یہ کہ مسلمان ہو جائے گا یہ دونوں باتیں خلاف نصوص جد یشیہ ہیں۔پس بہر حال یہ حدیث قابل تاویل ہے اور اس کی وہ تاویل جو خدا نے میرے پر ظاہر فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ایک گروہ پیدا ہو گا جس کا نام دجال ہے وہ اسلام کا سخت دشمن ہو گا اور وہ اسلام کو نابود کرنے کیلئے جس کا مرکز خانہ کعبہ ہے چور کی طرح اس کے گرد طواف کرے گا تا اسلام کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دے اور اس کے مقابل پر مسیح موعود بھی مرکز اسلام کا طواف کرے گا جس کی تمثیلی صورت خانہ کعبہ ہے اور اس طواف سے مسیح موعود کی غرض یہ ہوگی کہ اس چور کو پکڑے جس کا نام دجال ہے اور اس کی دست درازیوں سے مرکز اسلام کو محفوظ رکھے۔یہ بات ظاہر ہے کہ رات کے وقت چور بھی گھروں کا طواف کرتا ہے اور چوکیدار بھی۔چور کی غرض طواف سے یہ ہوتی ہے کہ نقب لگا دے اور گھر والوں کو تباہ کرے اور چوکیدار کی غرض طواف سے یہ ہوتی ہے کہ چور کو پکڑے اور اس کو سخت عقوبیت کے زندان میں داخل کرادئے تا اس کی بدی سے لوگ امن میں آجادیں۔پس اس حدیث میں اسی مقابلہ کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں وہ چور جس کو دجال کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ناخنوں تک زور لگائے