"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 72 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 72

منارہ اس کے پاس ہو گا۔یعنی اشاعت دین کے بہترین ذرائع اسے میسر ہوں گے اور ان معنوں میں مشرق کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ مسیح موعود کا سورج اپنے افق مشرق سے بہترین حالات کے ماتحت طلوع کرے گا اور اس کی کرنیں جلد جلد اکناف عالم میں پھیل جائیں گی۔نیز مناربے کے لفظ سے یہ بھی مراد ہے کہ جس طرح ایک چیز جو بلندی پر ہو وہ سب کو نظر آجاتی ہے اور دور دور کے رہنے والے بھی اسے دیکھ لیتے ہیں، اسی طرح مسیح موعود کا قدم بھی ایک منارہ پر ہو گا اور وہ ایسے روشن اور بین دلائل کے ساتھ ظاہر ہو گا کہ اگر لوگ خود اپنی آنکھیں نہ بند کر لیں اور اس کی روشنی کو دیکھنے سے منہ نہ پھیر لیں تو وہ ضرور تمام دیکھنے والوں کو نظر آجائے گا کیونکہ وہ ایک بلند مقام پر ہو گا۔منارہ کے ساتھ سفید کا لفظ بڑھانے میں بھی ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ گو ہر منارہ دور سے نظر آتا ہے لیکن اگر وہ سفید ہو تو پھر تو خصوصیت کے ساتھ وہ زیادہ چمکتا اور دیکھنے والے کی نظر کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔یا سفید کا لفظ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسیح موعود کی بلندی بے عیب ہو گی۔یعنی یہ نہیں ہو گا کہ وہ کسی دنیاوی وجاہت وغیرہ سے ایک بلند مقام پر ہو گا بلکہ اس کی بلندی خالص طور پر روحانی ہو گی۔اور اسی مقدس صورت میں وہ لوگوں کو نظر آئے گا۔بشرطیکہ لوگ تعصب اور ظلمت پسندی کی وجہ سے اپنی آنکھیں خود نہ بند کر لیں۔مسیح و مہدی کی آمد کی مزید علامتوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔یاد رہے کہ مسیح موعود کی خاص علامتوں میں یہ لکھا ہے کہ (۱) وہ دو زرد چادروں کے ساتھ اترے گا۔(۲) اور نیز یہ کہ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔(۳) اور نیز یہ کہ کافر اس کے دم سے مریں گے۔(۴) اور نیز یہ کہ وہ ایسی حالت میں دکھائی دے گا کہ گویا غسل کر کے حمام میں سے نکلا ہے اور پانی کے قطرے اس کے سر پر سے موتبوں کے دانوں کی طرح ٹپکتے نظر آئیں گے۔(۵) اور نیز یہ کہ وہ دجال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔(1) اور نیز یہ کہ وہ صلیب کو توڑے گا۔