"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 60 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 60

بھی اور عثمان بھی اور علی " بھی اور پھر عائشہ بھی انہی میں تھیں۔اور فاطمہ الزہراء بھی عشاق رسول اس وقت موجود تھے لیکن کسی ایک نے بھی تو اعتراض کے لب نہیں کھولے اور سب نے اپنے مولا کی رضا اور اس کی قضاء کے حضور روتے روتے سر جھکا دیئے !! قرآن کا ہر فیصلہ ان کے لئے ناطق اور آخری تھا! اللہ اللہ صحابہ کے تقویٰ اور روح اطاعت کی کیا شان تھی !!! ایک طرف تو وفور عشق کا یہ عالم کہ اپنے محبوب رسول عربی صلے اللہ علیہ وسلم کے وصال کا تصور بھی برداشت نہ تھا۔اور ہاتھ اٹھ اٹھ کر تلواروں کے قبضوں پر پڑتے تھے۔کہ جو کوئی اس انہ رسول کی وفات کی خبر زبان پر لائے گا۔اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا۔پھر کہاں اطاعت خداوندی کا یہ بے مثال منظر کہ قرآن کے ایک چھوٹے سے کلمے کی خاطر بے چون و چرا اسی رسول کی جدائی برداشت کر گئے کہ جسے زندہ رکھنے کی خاطر ان میں سے ہر ایک کو ہزار جانیں بھی دینی پڑتیں۔صد ہزار بار بھی مرنا پڑتا تو دریغ نہ کرتے دیکھو دیکھو کلام الہی کے ان چند الفاظ نے کیسا تغیر عظیم برپا کیا۔کہ وہ عشاق جو چند لمحے پہلے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر زبان پر لانے والوں کی جان کے درپے تھے۔خود ان کی اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور قوی ہیکل جوان غم و اندوہ کی شدت سے پچھاڑ کھا کھا کر زمین پر گرے ! لیکن یہ وہم تک کسی کے دل میں نہ گزرا کہ قرآن کی ایک چھوٹی سی آیت کی تاویل اپنی مرضی کے مطابق کر لیں۔اور محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات تسلیم کرنے سے انکار کر دیں !!! پھر دیکھو آجکل کے علماء کو کیا ہو گیا !!! کیوں ان کی محبت کے دھارے رسول مکی و مدنی سے رخ موڑ کر مسیح ناصری کی جانب بہنے لگے اور کیوں بنی اسرائیل کے اس گزرے ہوئے رسول کی محبت میں ایسے حد سے گزر گئے کہ قرآن کے واضح ارشادات کو بھی پس پشت ڈالنے کی جرات کرنے لگے۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ جن الفاظ میں یہ علماء خود بھی مانتے ہیں کہ قرآن کریم نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر دی تھی۔قد خلت من قبلہ الرسل کے وہی بعینہ وہی الفاظ جب مسیح ناصری کے حق میں استعمال ہوئے تو اس آیت کے معنے کچھ اور کرنے لگے۔کاش وہ حسان بن ثابت کی اندھی مگر پر بصیرت آنکھ ہی سے عرب میں ظاہر ہونے والے اس نور کو دیکھنے کی قدرت رکھتے اور اس انسان کامل کے حسن کو سراہنا جانتے۔کہ جو مجسم نور تھا اور جس نے صحابہ کے قلوب کو کمال حسن سے شیفتہ و فریفتہ کر رکھا تھا کاش وہ حسان بن ثابت کے ہمنوا ہو کر فخر دو عالم صلے اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہہ سکتے۔