"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 59 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 59

۵۹ کر پھر زندہ اور زندہ ہو کر پھر نہیں مریں گے یا معنوی لحاظ سے یہ مراد ہو گی کہ آپ کا جسم تو مر گیا لیکن آپ کا دین ہمیشہ زندہ رہے گا۔بہر حال یہ کہہ کر آپ روتے ہوئے باہر صحابہ کے مجمع میں تشریف لائے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر بعض آیات کی تلاوت کی جن میں سے پہلی یہ تھی کہ وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افان مات او قتل انقلبتم على اعقابكم ( آل عمران ع ۱۵ پاره - ۴ رکوع ۶ ) یعنی نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم مگر خدا کے رسول۔ان سے پہلے جتنے رسول تھے سب گزر گئے پھر اگر آپ بھی وفات پا جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے ؟ روایت آتی ہے کہ اس آیت کو سنتے ہی صحابہ کو یقین ہو گیا کہ حضرت رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں۔اور حضرت عمر کا تو یہ حال ہوا کہ صدمہ کی شدت سے نیم جان ہو گئے گھٹنوں میں سکت باقی نہ رہی اور لڑکھڑا کر زمین پر گر پڑے۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے یہ آیت پہلی مرتبہ نازل ہوئی ہو یعنی اس کا یہ مفہوم پہلی مرتبہ ہم پر روشن ہوا کہ رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کی طرح وفات پا جائیں گے۔پھر کیا ہمیں علماء سے یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ اگر اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا تھا کہ جس طرح رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے قبل تمام نبی فوت ہو گئے اسی طرح رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم بھی وفات پا جائیں گے تو کیوں حضرت عمر اور ان کے ہم خیال صحابہ نے حضرت ابو بکر سے تلواریں سونتے ہوئے یہ سوال نہ کیا کہ جس آیت کی رو سے تم سید ولد آدم صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر دیتے ہو وہ تو ایک ادنی شان کے نبی یعنی مسیح ناصری کو بھی مارنے کی طاقت نہیں رکھتی اگر وہ اس آیت کے باوجود زندہ آسمان پر چڑھ سکتے ہیں تو کیوں ہمارا آقا ایسا نہیں کر سکتا جو فخر دو عالم تھا اور سب نبیوں کی سرداری اسے عطا ہوئی تھی یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مقصود عالم کہ جس کی خاطر کائنات کو پیدا کیا گیا اسے تو یہ آیت مار کر زیر زمین ملا دے اور ایک ادنی شان کے نبی کو جو اس کی غلامی پر فخر کرنے کے لائق تھا جسم سمیت زندہ اٹھا کر چوتھے آسمان پر لے جا بٹھائے ؟ لیکن ایسا نہیں ہوا اور کسی ایک صحابی کی زبان پر بھی یہ اعتراض نہ آیا۔ان میں ابو بکرہ بھی تھے اور عمر