"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 54
۵۴ علیہ السلام کو ہمارے آقا و مولی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح خدا تعالیٰ کے مقرب اور اس کے حضور بلند مقام کے حامل اور غیر معمولی عزت و عظمت اور بلندی حاصل کرنے والا اور پھر اپنی طبعی عمر پا کر وفات یافتہ یقین کرلیں یا پھر محبوب کبریا سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح آسمانوں پر بجسم عصری زندہ تسلیم کریں۔کیونکہ دونوں کے لئے رقعہ اللہ الیہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔اور غیرت کی جا ہے عیسی زندہ ہو آسمان : مدفون ہو زمیں میں شاہ جہاں ہمارا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس غیرت کا اظہار اللہ تعالی اپنے پاک کلام میں اس طرح فرماتا ہے و ما جعلنا لبشر من قبلك الخلدا فائن ست نهم الخلدون ترجمہ :۔اور (اے محمد !) ہم نے کسی انس کو تجھ سے پہلے غیر طبعی عمر نہیں بخشی۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تو تو مر جائے اور وہ غیر طبیعی عمر تک زندہ رہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام ہرگز زندہ نہیں ہیں قطعی قارئین کرام ! قرآن کریم نے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بارہ میں کثرت سے ثبوت پیش فرمائے ہیں لیکن طوالت کے ڈر سے ہم آپ کی خدمت میں صرف یہ دو آیات پیش کرتے ہیں جو دو برہنہ سونتی ہوئی تلواروں کی طرح ہیں جو قرآنی بیان کے خلاف ہر کھڑے ہونے والے کا سر کاٹنے کے لئے تیار ہیں اور وہ یہ ہیں :- پہلی آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی خبر دینے والی آیات میں سے ایک واضح آیت یہ ہے :- ما المسيح ابن مريم الارسول قد خلت من قبله الرسل و امه صديقة كانا يا كلن