"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 53
۵۳ کر سکتے جبکہ انہیں قواعد کے مطابق ہم آپ کے مفہوم کے خلاف ایسی مثال پیش کریں گے کہ آپ کی مجال نہیں کہ اسے رو کر سکیں۔چنانچہ گیارھویں صدی کے مجدد حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب " ما ثبت بالسند فی ایام السنہ" جو آپ لوگوں کی عقائد کی بنیادی کتابوں میں سے ہے ، فرماتے ہیں۔كان الحكمة في بعثه صلى الله عليه وسلم هداية الخلق و تتمیم مکارم الاخلاق و تکمیل مبانی الدین فحين حصل هذا الأمر وتم هذا المقصو در فعد الله اليه في اعلى عليين و توفاه الله و هو ابن ثلث وستين - " (صفحه ۳۹) کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی حکمتیں یہ تھیں۔مخلوق خدا کی ہدایت۔اعلیٰ اخلاق کو مکمل کرنا اور دین کے اصولوں کی تکمیل۔پس جب یہ کام مکمل ہو چکے اور مقصود پورا ہو گیا تو رفعه الله اليد و تو فاء اللہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے ہاں عظیم الشان مقام و مرتبہ عطا فرمایا اور آپ کے درجات کو انتہائی بلند کیا اور پھر آپ کو وفات دی۔لیکن بقول چشتی صاحب اللہ تعالی آپ کو آسمانوں پر جسم سمیت لے گیا اور بقول پیر مہر علی صاحب قرب قیامت میں آپ کی موت ہو گی۔لیجئے چشتی صاحب ! ہم نے آپ کے قواعد کے مطابق لیکن آپ کے مفہوم کے بر عکس ایک مستند اور دو ٹوک عبارت پیش کر دی ہے۔اس عبارت میں واقعہ اللہ الیہ میں اللہ تعالی فاعل مفعول جو ہر اور صلہ اٹلی مذکور ہے اور مجرور اس کا ضمیر ہے اسم ظاہر نہیں اور ضمیر فاعل کی طرف راجع ہے۔لہذا آپ کے پیش کردہ ان قواعد کے مطابق ہمارے آقا و مولی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر اٹھائے گئے اور بقول آپ کے اس کے علاوہ دوسرے معنے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے۔چشتی صاحب ! عقل کے ناخن لیں۔کیوں قرآن کریم کو اپنے باطل عقائد کے مطابق ڈھالنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور اپنے ارد گرد جھوٹ اور تلیس کا ایسا تانا بانا بنتے چلے جا رہے ہیں کہ خود اس میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔پس اب دو راستوں میں سے آپ کو ایک راستہ لازماً اختیار کرنا پڑے گا کہ یا تو حضرت عیسی