"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 52 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 52

۵۲ را فعک الی چشتی صاحب نے اپنے مقتدیوں پر اپنی عربی دانی کا رعب ڈالنے کے لئے عربی گرائمر کی اصطلاحات استعمال کی ہیں اور ان میں انہیں الجھانے کی بجائے خود ایسے الجھے ہیں کہ قارئین ملاحظہ فرمائیں گے کہ تاقیامت اس مشکل سے نکل نہیں سکیں گے۔چشتی صاحب لکھتے ہے تے ہیں۔بغور دیکھا جائے تو لفظ رافعک تمام قادیانی کاوشوں پر پانی پھیر رہا ہے۔جب رفع برفع ولعا فهو رافع میں سے کوئی سا بولا جائے جہاں اللہ تعالٰی فاعل ، مفعول جو ہر اور صلہ ائی مذکور ہو اور مجرور اس کا ضمیر ہو۔اسم ظاہر نہ ہو اور وہ ضمیر فاعل کی طرف راجع ہو وہاں سوائے آسمان پر اٹھانے کے دوسرے معنی ہو ہی نہیں سکتے۔" (صفحه ۱۳) چشتی صاحب ! آپ نے ان مذکورہ بالا " قواعد " کے مطابق کوئی مثال اور کوئی نظیر نہیں پیش کی آپ نے تو صرف آیت کریمہ بلوفعہ اللہ الیہ کی گرائمر بیان کر دی ہے۔جس آیت کو آپ نے دعوی کے طور پر پیش کیا ہے اسی کو دلیل کے طور پر پیش کر دینا ہرگز جائز نہیں۔پس جب تک آپ اس کے علاوہ بعض دوسری مثالیں پیش نہ کر دیں۔آپ کا دعوی ہرگز ہرگز سچا ثابت نہیں ہو سکتا۔اور یہ ہم بتا دیتے ہیں کہ آپ اپنے اس دعوئی کی تائید میں تاقیامت ایک مثال بھی پیش نہیں کر سکتے۔نہ ہی اس آیت میں " آسمان " کا لفظ تاقیامت آپ ثابت کر سکتے ہیں۔قرآن کریم میں رفع الی السماء کا ذکر ہی کوئی نہیں۔آپ کے دجل کا یہ حال ہے کہ اپنی طرف سے ایک بات بنا کر اسے قرآن کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔مزید برآں یہ بھی آپ کو بتانا ہو گا کہ آسمان کہاں ہے ، اور کس سمت میں ہے ؟ نیز جب تک اللہ تعالی کی سمت کا تعین نہ ہو جسم کس طرح اس طرف جائے گا۔چشتی صاحب! قرآن کریم کے منشاء کے خلاف آپ قرآن کریم سے ہر گز کوئی دلیل نہیں لا سکتے اور نہ ہی اس کے باہر آپ کو کوئی مثال مل سکتی ہے۔جبکہ قرآن کریم کے مطابق اگر آپ اپنا عقیدہ بنالیں تو قرآن کریم بھی آپ کی مدد کرے گا اور باہر سے بھی ہر جگہ آپ کو تائیدی مثالیں ملیں گی۔آپ تو اپنے مذکورہ بالا قواعد کے مطابق اپنے مفہوم کی تائید میں ایک مثال بھی پیش نہیں