"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 51 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 51

۵۱ تونی (۷) اسلام کی زندگی عیسی" کی وفات میں ہے" چشتی صاحب نے اپنے اس پمفلٹ ” فاتح قادیان " میں حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات و وفات کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کے ثبوت کے لئے پیر مہر علی شاہ صاحب کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ " اگر توفی سے موت کے معنے بھی لئے جائیں تو مرزا صاحب کا مقصد حاصل نہیں ہوتا کیونکہ یہاں متوفی اسم فاعل کا صیغہ ہے جو حال اور استقبال دونوں پر حاوی ہے جس سے یہ معنیٰ حاصل ہو گا کہ میں آئندہ زمانے میں کسی وقت تجھے وفات دوں گا۔یہ یہود تجھے قتل کرنے پر قادر نہیں ہو سکتے اور تمام اہل اسلام اس چیز پر متفق ہیں کہ آپ قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہو کر وفات پائیں گے۔" ( مهر منیر صفحه ۵۲۸) چشتی صاحب ! پیر صاحب کا یہ فرمان غور سے پڑھیں۔اس میں انہوں نے توفی کے معنے موت کے سوا اور کچھ نہیں کئے۔ذرا غور فرمائیے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جب قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہو کر وفات پائیں گے تو اس وقت یہی لفظ توفی یا متوفیک ہی ہو گا جو ان کی موت پر دلالت کرے گا۔پس یہ تو قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ توفی اور متوفیک کے معنے سوائے موت کے اور کوئی نہیں۔اگر بالفرض یہ بات درست ہے کہ وہ قرب قیامت میں فوت ہونگے تو پھر جب تک ان کی موت نہیں ہو گی اس وقت تک رفع بھی نہیں ہو گا کیونکہ پہلے متوفیک کے مطابق موت ضروری ہے پھر رافعک کے تحت وقع۔اس لئے جب بقول آپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں تشریف لا کر وفات پائیں گے تو پھر ان کا رفع ہو گا۔۔۔وہ بھی زندگی کی حالت میں نہیں بلکہ بعد از وفات ہو گا۔پس اگر وہ آپ کے عقیدہ کے مطابق ابھی تک زندہ ہیں تو لازماً ابھی تک ان کا رفع نہیں ہوا۔