"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 50
۵۰ جو نام نہاد معیار بنایا تھا وہ ان کے سن ولادت ۱۲۵۲ مجری متعین ہونے سے پارہ پارہ ہو گیا۔ولادت آمد ندا وفات ۶۱۹۳۷ + ۶۱۸۳۷ یہاں یہ امر بھی قارئین کی دلچسپی کا باعث ہو گا کہ مولوی محمد فاضل صابر کے اس مذکورہ بالا شعر کے نیچے مولف کتاب ” مہر منیر " لکھتے ہیں " راقم الحروف (مؤلف) کی استخراج کرده تاریخ وصال توفی و دو دالله مجدد طریقتہ یعنی اللہ کا دوست طریقہ المیہ کا مجدد فوت ہوا قبل ازیں بھی تحریر ہو چکی ہے " اس تحریر میں مولف کتاب نے پیر صاحب کی ساری عمر کی سعی کو بے مقصد اور تمام تر جدوجہد کو باطل ثابت کر دیا ہے۔- پیر صاحب نے اپنی ساری زندگی یہ ثابت کرنے میں بتادی کہ توفی کے معنی پورا پورا لے لینے کے ہیں اور جب حضرت عیسی علیہ السلام کے بارہ میں یہ لفظ آتا ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی حضرت عیسی علیہ السلام کو پورا پورا آسمان پر لے گیا۔جہاں وہ زندہ ہیں۔مگر ستم ظریفی دیکھئے پیر صاحب کی آنکھیں بند ہوتے ہی آپ کے مرید خاص مولانا فیض احمد فیض نے آپ کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا اور ثابت کر دیا کہ توفی کے معنے پورا پورا اٹھانے کے نہیں بلکہ مرجانے کے ہیں چنانچہ لکھا تو فی ودود اللہ مجدد طریقہ کہ اللہ کا دوست اور طریقہ اہلیہ کا مجدد فوت ہوا۔یعنی پیر صاحب فوت ہو گئے۔پورے پورے نہیں اٹھائے گئے۔یاد رہے کہ اس کتاب کی اشاعت کی اجازت خاص طور پر پیر صاحب کے بیٹے سید غلام محی الدین شاہ مسند آرائے آستانہ گولڑہ سے لی گئی تھی۔