"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 5
أعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الأمير تمهید مولوی مشتاق احمد چشتی صاحب ! آپ نے اپنے رسالہ ” فاتح قادیان " میں جس جھوٹ “ تلیس اور خیانت سے کام لیا ہے اس کی سزا اللہ تعالٰی آپ کو دے چکا ہے اور اس کی خاص تقدیر نے اس کا جواب بھی آپ کو مہیا کر دیا ہے۔مسجد کے اموال میں خرد برد اور خیانت کی وجہ سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کی پکڑ ہوئی اور نہ صرف یہ کہ خطیب ملت اور علامہ وغیرہ کے القاب آپ سے چھن گئے بلکہ اس قدر ذلیل ہوئے کہ لوگوں کی نظروں سے گر گئے اور انہوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کر دیا۔خدا تعالیٰ کی اس پکڑ کو جہاں اہلِ ناروے نے اپنی نظروں سے مشاہدہ کیا وہاں اس کی بازگشت سیکنڈے نیویا کے علاوہ یورپ اور پاکستان میں بھی سنی گئی۔۔۔جو رسوائی سی رسوائی مولوی مشتاق چشتی صاحب کی ہوئی اس کی تفصیل کو سردست یہاں چھوڑتے ہوئے ہم پہلے قرآن کریم کے فرمان ان عدتم عدنا (بنی اسرائیل : ۸) کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پیر مہر علی صاحب گولڑوی کے درمیان تغییر نویسی کے مقابلہ کے متعلق حقائق تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ان حقائق کے ملاحظہ فرمانے کے بعد ہر قاری پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ مولوی مشتاق احمد چشتی صاحب کے پیرو مرشد پیر مہر علی گولڑوی صاحب نے درست فرمایا تھا کہ : گستاخ اکھیں کتھے جاڑیاں ترجمہ : اگر تم لوٹو گے تو ہم بھی لوٹیں گے۔